امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں مگر شدید زخمی ہیں۔ اس سے قبل وہ یہ دعوے کرتے رہے تھے کہ امریکی حملوں میں نئے ایرانی سپریم لیڈر کی موت ہو چکی ہے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن اگر ایسا ہے بھی تو ایرانی حکام بہت اچھا ڈراما کر رہے ہیں، کیونکہ ایرانی ہر معاملے پر حتمی منظوری کیلئے سپریم لیڈر سے بات کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر جسم کے بائیں جانب بہت شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ۲۸ فروری کو ایران پر امریکی حملوں کے پہلے دن علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے، اُس واقعہ کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کا عسکری اور اقتصادی دباؤ کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، قدامت پسند ریڈیو ہوسٹ گلین بیک کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: "یہ تمام چیزیں ایک بہت بڑی کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہیں، ہم بہت جلد یہاں بڑی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔” امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز اب درحقیقت مکمل طور پر کھلی ہے۔

