ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی نئی تحقیق نے انڈوں اور کولیسٹرول کے تعلق کے بارے میں طویل عرصے سے رائج تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔
ہارورڈ ہیلتھ میں شائع رپورٹ کے مطابق خوراک میں موجود کولیسٹرول خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح پر اتنا اثر نہیں ڈالتا جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔
تحقیق میں 48 بالغ افراد کو تین مختلف غذائی منصوبوں کے تحت رکھا گیا، ایک گروپ میں زیادہ کولیسٹرول مگر کم سیر شدہ چکنائی تھی اور روزانہ دو انڈے شامل تھے۔ دوسرے گروپ میں کم کولیسٹرول مگر زیادہ سیر شدہ چکنائی تھی، جبکہ تیسرے گروپ میں زیادہ کولیسٹرول اور زیادہ سیر شدہ چکنائی تھی جس میں روزانہ ایک انڈا شامل تھا۔
نتائج سے پتہ چلا کہ خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح بنیادی طور پر سیر شدہ چکنائی کی مقدار سے متاثر ہوتی ہے، نہ کہ خوراک میں موجود کولیسٹرول سے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ افراد جو روزانہ دو انڈے کھاتے تھے اور باقی غذا میں کم سیر شدہ چکنائی رکھی گئی، ان میں کولیسٹرول کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ بعض افراد میں کمی بھی دیکھی گئی۔
ماہرین صحت نے کہا کہ دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرنے والی غذائیں زیادہ تر گوشت، پراسیسڈ میٹ، مکھن، پنیر اور دیگر سیر شدہ چکنائی والی اشیاء ہیں، نہ کہ انڈے۔ انہوں نے کہا کہ انڈے ایک صحت مند اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا حصہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب مجموعی غذا متوازن ہو۔


