
(ویب ڈیسک ) ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ناروے کے شاہی محل نے جمعہ کو ان کے انتقال کی تصدیق کردی، جس کے ساتھ ملک کی بادشاہت کے ایک طویل دور کا اختتام ہوگیا۔
بادشاہ ہیرالڈ 1991 میں تخت پر فائز ہوئے تھے اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ناروے کے رسمی سربراہِ مملکت کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ اپنے والد، آنجہانی بادشاہ اولاف پنجم، کے سائے سے نکل کر ایک مقبول اور اصلاح پسند بادشاہ کے طور پر اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔
شاہی محل کے مطابق ہیرالڈ کا انتقال اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں ہوا۔ ان کی صحت گزشتہ کچھ عرصے سے خراب تھی اور حالیہ دنوں میں ان کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرول سستا ہونے کے بعدسونے کا بھی ریٹ نیچے آگیا !
بادشاہ ہیرالڈ ناروے کے تخت پر 1991 میں اپنے والد کی وفات کے بعد بیٹھے تھے۔ وہ کئی مواقع پر اپنی خراب صحت کے باعث شاہی ذمہ داریاں انجام دینے سے قاصر رہے، تاہم انہوں نے تخت سے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
ان کے انتقال کے بعد ناروے کی شاہی ذمہ داریاں ان کے بیٹے ولی عہد شہزادہ ہاکون کی جانب منتقل ہوں گی، جو اپنے والد کی علالت کے دوران بطور قائم مقام سربراہ بھی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
بادشاہ ہیرالڈ کی وفات کو ناروے کی جدید شاہی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جارہا ہے، جبکہ ان کی طویل حکمرانی اور عوام سے مضبوط تعلق ان کے دور کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

