دنیا کی پہلی سولر ایمبولینس کا کامیاب تجربہ

news 1787990144 3825



news 1787990144 3825

(24 نیوز)افریقہ میں صحت کی سہولتوں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ براعظم کے تقریباً ایک تہائی لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں طبی سہولت کے لیے دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اس کے علاوہ بہت سے طبی مراکز میں بجلی کی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث وہاں ضروری طبی آلات چلانا اور بعض خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی مسئلے کے حل کے لیے نیدرلینڈز کے طلبہ نے ایک منفرد گاڑی تیار کی ہے جسے ’اسٹیلا جووا‘ کا نام دیا گیا ہے، یہ شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس ہے جس میں ایکسرے مشین، الٹراساؤنڈ اور ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے فریج سمیت مختلف طبی آلات موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس گاڑی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی چھت پر سولر پینل نصب ہیں جو سفر کے دوران بھی توانائی پیدا کرتے رہتے ہیں، جب گاڑی کھڑی ہوتی ہے تو اضافی سولر پینل باہر نکال کر پھیلا دیے جاتے ہیں، جس سے سورج کی روشنی حاصل کرنے کا رقبہ بڑھ جاتا ہے اور زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اسٹیلا جووا تیار کرنے والی سولر ٹیم آئندھوون میں 23 طلبہ شامل ہیں، جن کا تعلق آئندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور دو دیگر تعلیمی اداروں سے ہے، ٹیم اسے دنیا کی پہلی شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس قرار دیتی ہے، تاہم یہ روایتی ایمبولینس سے کچھ مختلف ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنا نہیں بلکہ طبی آلات اور انہیں چلانے کے لیے درکار توانائی دور دراز علاقوں تک پہنچانا ہے۔

مزیدپڑھیں:امریکا اور میکسیکو میں پنیر کے ناموں کے استعمال پر اختلاف شدت اختیار کرگیا

طلبہ نے رواں ماہ کینیا میں غیر سرکاری تنظیم امریف ہیلتھ افریقہ کے تعاون سے اس گاڑی کا عملی تجربہ کیا، مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا اسٹیلا جووا طویل فاصلے اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرسکتی ہے اور دور دراز علاقوں میں پہنچنے کے بعد اپنے طبی آلات کو صرف شمسی توانائی سے چلا سکتی ہے یا نہیں۔

تجربے کے دوران گاڑی نے کینیا میں 800 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا، اس میں جنوب مغربی کینیا کے علاقے ناراک میں واقع موسرو کے ایک صحت مرکز کا سفر بھی شامل تھا، جہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے، وہاں پہنچنے کے لیے طلبہ کو کئی گھنٹوں تک گرد آلود اور گڑھوں سے بھری کچی سڑک پر سفر کرنا پڑا۔

ٹیم کی رکن 22 سالہ ازابیلا واننگن کے مطابق گاڑی نے دشوار راستے پر توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی، انہوں نے بتایا کہ ٹیم کے ارکان گاڑی کی کارکردگی دیکھ کر مثبت طور پر حیران ہوئے۔

تجربے کا ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جب اسٹیلا جووا ایک جگہ کھڑی تھی اور اس کے تمام طبی آلات بیک وقت چل رہے تھے، تب بھی سولر پینل اتنی توانائی پیدا کر رہے تھے جو گاڑی اور آلات کی کھپت سے زیادہ تھی، طلبہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی روایتی ایندھن یا بجلی کے چارجنگ اسٹیشن سے منسلک ہوئے بغیر بھی کام کرسکتی ہے۔

 تجربے میں طبی آلات حقیقی مریضوں پر استعمال نہیں کیے گئے، تاہم سولر ٹیم آئندھوون اور امریف ہیلتھ افریقہ کے مطابق ان آلات کے ذریعے دو دن میں تقریباً 200 افراد کا علاج کیا جا سکتا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ