اسلام آباد/کابل: اکتوبر 2025 سے طورخم اور چمن سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث افغانستان کو پاکستان کی ادویات کی برآمدات شدید متاثر ہو گئی ہیں، جس سے تقریباً 200 ملین ڈالر کی فارماسیوٹیکل تجارت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق سرحدی بندش کے نتیجے میں افغانستان میں داخلے کے منتظر سینکڑوں ٹرکوں میں موجود ادویات طویل عرصے سے پھنس کر رہ گئی ہیں، جس سے نہ صرف برآمد کنندگان کو مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ افغانستان میں ادویات کی قلت کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندے اور معروف ماہرِ صحت ڈاکٹر قیصر وحید نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کے ہیلتھ سسٹم میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سرحدی رکاوٹوں کے باعث جان بچانے والی ادویات کی ترسیل متاثر ہونا ایک انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرحدی آمدورفت جلد بحال نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ مریضوں کی بڑی تعداد اس کا براہِ راست متاثر ہو گی۔
حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انسانی بنیادوں پر ادویات کی ترسیل کو فوری استثنا دیا جائے تاکہ صحت عامہ کے مسائل مزید سنگین نہ ہوں۔

