اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 20.28 فیصد اضافے کے ساتھ 31 ارب 98 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران برآمدات میں 6.25 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 25 ارب 21 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات میں 6.94 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 57 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئیں۔
تجارتی خسارے میں اس نمایاں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی اکاؤنٹ پر دباؤ برقرار ہے۔ ماہرین معیشت کے مطابق درآمدی بل میں اضافہ، خاص طور پر توانائی، مشینری اور خام مال کی درآمدات کی وجہ سے ہوا ہے، جبکہ برآمدات ٹیکسٹائل، چمڑے اور چاول سمیت اہم شعبوں کی کمزور کارکردگی کی وجہ سے گری ہیں۔
حکومت نے پورے مالی سال کے لیے برآمدات کے ہدف مقرر کیے ہیں، تاہم صرف دو ماہ باقی رہ جانے کی وجہ سے بڑی بہتری کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین نے برآمدات میں تنوع، کاروبار میں آسانی اور توانائی کے مسائل کے حل سمیت ساختہ اصلاحات پر زور دیا ہے تاکہ تجارتی توازن کو مستحکم کیا جا سکے۔

