مشہور سنیما شخصیات کا وینس فلم فیسٹیول میں فلسطینی جھنڈا لہرانے کا مطالبہ


وینس (انٹرنیشنل ڈیسک) — دنیا بھر کی مشہور سنیما اور ثقافتی شخصیات نے وینس فلم فیسٹیول کے منتظمین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سال کے ایڈیشن میں فلسطینی جھنڈا لہرایا جائے، تاکہ سرکاری انتخاب میں شامل دو فلسطینی فلموں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔
آئندہ ہفتے شروع ہونے والے فلم میلے سے قبل جاری کیے گئے ایک کھلے خط میں "وینس فار فلسطین” نامی اقدام نے کہا کہ احمد حسونہ کی فلم "المواطن اسامہ” (شہری اسامہ) اور معیاد علیان کی فلم "حوار مع البحر” (سمندر کے ساتھ گفتگو) کو سرکاری انتخاب میں شامل کیے جانے کو اسی انداز میں تسلیم کیا جانا چاہیے جیسے میلہ عام طور پر دیگر ممالک کی فلموں کو خراج پیش کرتا ہے۔
خط میں منتظمین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تقریب کی مدت کے دوران فلسطینی جھنڈا سرکاری انتخاب میں شامل دیگر تمام ممالک کی فلموں کی نمائندگی کرنے والے جھنڈوں کے ساتھ لہرائیں۔ اس کے علاوہ خط میں فلم، میڈیا اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ کارکنوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور غزہ میں جاری نسل کشی اور اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیلی حکومت سے منسلک اداروں کا بائیکاٹ کریں۔
خط میں کہا گیا: "جس تاریخی دور سے ہم گزر رہے ہیں اس کی غیر معمولی نوعیت ہمیں اسرائیل کو سفارتی، ثقافتی اور معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔” مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات اس وقت تک جاری رہنے چاہئیں جب تک اسرائیلی حکومت بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کرتی اور فلسطین پر قبضہ و نوآبادیاتی اقدامات کا خاتمہ نہیں کرتی۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں اطالوی ہدایت کار میٹیو گیرون اور مارکو سائمن پوچیونی، اداکار گائے پیئرس، اندیا مور اور ایڈیل ہینل، موسیقار راجر واٹرس اور نوبل انعام یافتہ مصنفہ اینی ایرنو شامل ہیں، جبکہ اس فہرست میں 200 سے زائد فلمی اور ثقافتی کارکن اور دیگر ممتاز شخصیات بھی شامل ہیں۔

متعلقہ پوسٹ