پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور میں پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ جنوبی ایشیا کا پہلا اور جدید ترین سائنس انکلیو ہے جو زرعی مصنوعات، خوراک، ادویات اور کاسمیٹکس کی ٹیسٹنگ کو ایک ہی چھت تلے ممکن بناتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوامی خدمت اور شفافیت ان کی حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرپشن اور میرٹ کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو حفظان صحت کے معیار کو بہتر بنانے کا سٹیٹ آف دی آرٹ اقدام قرار دیا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک نامکمل اور کھنڈرات جیسی عمارت کو AI اور IT سے آراستہ ہائی ٹیک لیبارٹری میں تبدیل کر دیا ہے۔ "فل مارکس” دیتے ہوئے انہوں نے علامتی طور پر تالیاں بجائیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوگا اور خطے میں سینٹر آف ایکسیلنس بنے گا۔ اس سے "میڈ ان پاکستان” مصنوعات پر عالمی اعتماد بحال ہوگا، جعلی ادویات اور ملاوٹ زدہ خوراک کا خاتمہ ممکن ہوگا، اور برآمدات میں رکاوٹیں دور ہوں گی۔ انہوں نے ماضی میں کرپشن کے باعث قومی وسائل کے ضیاع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطاب میں کہا کہ یہ منصوبہ 10 سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیب نہ ہونے سے برآمد کنندگان کو شدید نقصان ہو رہا تھا۔ اب یہ ادارہ مکمل ہو کر عالمی سطح پر سرٹیفیکیشن دے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں AI کو سکولوں تک پھیلایا جا رہا ہے، ورچوئل پولیس سٹیشن قائم کیے جا رہے ہیں، اور کاروبار کی آسانی کے لیے ایک ہی جگہ بزنس رجسٹریشن ممکن ہو گی۔ مزید برآں، 38 اضلاع میں سیٹلائٹ کرائم یونٹس اور 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے خواتین سائنسدانوں کے لیے ہاسٹل بنایا جا رہا ہے۔
تقریب میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ، صوبائی وزراء، اسمبلی ممبران اور 20 ممالک کے سفارتکار موجود تھے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے مختلف لیبارٹریز کا دورہ کیا، جدید آلات کا معائنہ کیا، سیمپلنگ کا عمل دیکھا اور ایک معلوماتی ویڈیو بھی دیکھی گئی۔
یہ ادارہ انگلینڈ اور ترکیہ کی مدد سے قائم کیا گیا ہے، جس میں 4.4 ارب روپے کی لاگت سے 42 ہائی ٹیک مشینیں نصب کی گئی ہیں اور جلد مزید 565 مشینیں شامل ہوں گی۔ اس سے غیر ملکی لیبارٹریز پر انحصار ختم ہوگا اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

