اسرائیل کے تعلق سے خبر پر ٹرمپ کی دھمکی آئین کی خلاف ورزی قرار، امریکی وفاقی عدالت کا فیصلہ


کیلیفورنیا (انٹرنیشنل ڈیسک) — امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل-فلسطین تنازع اور دیگر متنازع معاملات پر رائے ظاہر کرنے والے طالب علم صحافیوں کو جلاوطنی کی دھمکی دے کر امریکی آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ فیصلہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کے اخبار کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں سنایا گیا۔ جوبائیڈن کے دورِ حکومت میں نامزد کی گئی ڈسٹرکٹ جج نویل وائز نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ حکومت نے آزاد اظہارِ رائے کے حوالے سے ایک خوفناک پیغام دیا، یعنی "اسرائیل کے خلاف یا فلسطینیوں کی حمایت میں بات کرو تو تمہارا ویزا منسوخ کرکے تمہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔” جج نے مزید لکھا کہ غیر ملکی طلبہ نے یہ انتباہ سنا اور اس پر عمل بھی کیا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ اگست میں دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے تحت "امریکہ مخالف” یا فلسطین حامی خیالات کے اظہار پر ویزا منسوخی کی دھمکی دے کر طلبہ کے آئین کی پہلی اور پانچویں ترمیم کے تحت حاصل حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے، حالانکہ وائٹ ہاؤس اکثر ایسے خیالات کو غلط طور پر "حماس نواز” قرار دیتا رہا ہے۔
فاؤنڈیشن فار انڈیویڈوئل رائٹس اینڈ ایکسپریشن (FIRE) کی حمایت سے دائر اس مقدمے میں کہا گیا کہ اس پالیسی کے باعث اخبار کی سرگرمیوں پر سرد مہری طاری ہو گئی، جس کے نتیجے میں معاونین مضامین جمع کرانے اور ذرائع صحافیوں سے بات کرنے سے کترانے لگے، کیونکہ انہیں سزا کا خدشہ لاحق تھا۔
جج وائز نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی کیمپس کریک ڈاؤن مہم، جس کے تحت ملک بھر میں فلسطین حامی کارکنوں اور اساتذہ کو گرفتار کیا گیا، "ناقابلِ فہم” معیارات کے تحت چلائی جا رہی ہے، جس سے آزادیٔ اظہار کے حقوق میں مسلسل تنزلی کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کو ایک سنگین اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے انتظامیہ کی ویزا پالیسیوں کو اس تناظر میں غیر آئینی قرار دیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے وکیل کونور فٹزپیٹرک نے کہا: "امریکہ میں آزادیٔ اظہار صرف ان لوگوں کا حق نہیں جن کی بات سے حکومت متفق ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کوئی مراعات نہیں بلکہ ہر انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب میساچوسٹس کی ایک اور وفاقی عدالت نے ستمبر میں انتظامیہ کی طالب علمی ویزا مہم کے خلاف سخت فیصلہ سنایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پالیسیاں "سام دشمنی” کی غیر آئینی طور پر وسیع تعریف کی آڑ میں پہلی ترمیم پر کھلا حملہ ہیں۔ وہ مقدمہ فی الحال اپیل کے مرحلے میں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کو گرفتار اور جلاوطن کرنے کی کوششیں کی ہیں، جن کی سرگرمیاں فلسطین تحریک میں شمولیت، کیمپس میں احتجاجی خیمہ بندی، حکام کے ساتھ مذاکرات میں معاونت سے لے کر اسرائیل کے خلاف مشترکہ مضامین لکھنے تک محیط تھیں۔ انتظامیہ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ اسرائیل نواز آن لائن نگرانی گروپوں کی سفارشات پر باقاعدگی سے افراد کی نشاندہی اور انہیں نشانہ بناتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ