بلغاریہ کے ایک ٹیلنٹ شو (2025) کی فائنلسٹ، ارینا شیلونے معروف گلوکار بین ای کنگ کے پرسوز گیت کی دھن پرپینٹومائم یعنی خاموش اداکاری کا جادو کیا جگایا، اس نے پوری دنیا میں ایک عجیب بحث چھیڑ دی۔ لوگ دو دھڑوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ یہ پائیدار محبت، وفاداری اور ہجر کی لازوال داستان ہے، جب کہ دوسرے گروہ کا ماننا تھا کہ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اس وہم کے عشق میں مبتلا ہو گئی جو اس نے خود ایک بے جان چیز کے بارے میں گھڑا تھا۔ یہ بحث، جسے ایک عالمی گروپ تھراپی کا نام دیا جا رہا ہے، بذاتِ خود جدید انسان کے فکری اور روحانی افلاس کا ثبوت بھی ہے۔
روایتی تہذیبوںمیں محبت (عشق) کا سفر ہمیشہ ذات سے شروع ہو کر ذاتِ حقیقی پرختم ہوتا ہے۔ عشقِ مجازی محض ایک پل ہے جو انسان کو اپنی انا کے خول سے نکال کر دوسرے کے وجود کا احترام سکھاتا ہے۔ وہاں محبت ایک فریب نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنے کا زینہ ہے، لیکن آج محبت صرف ایک نفسیاتی عارضہ یا حیاتیاتی ضرورت بن کر رہ گئی ہے۔ جب آپ کا کوئی آفاقی مرکز نہ ہو تو آپ کا ہر رشتہ ایک سراب بن جاتا ہے۔ آپ لکڑی کے ڈھانچوں سے مکالمہ کرتے ہیں اور جب وہ ڈھانچے آپ کے تخیل کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتے ہیں یا جب آپ پر حقیقت کھلتی ہے، تو جو خالی پن پیدا ہوتا ہے، وہ انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ ارینا کی پرفارمنس کا آخری حصہ اسی ہولناک خالی پن کی عکاسی کرتا ہے۔
ارینا شیلو، جو کہ ڈرامہ، موسیقی، اور فضائی ایکروبیٹکس کی ماہر ہے، اپنے اس فن کو معاشرے میں تشدد کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتی ہے۔ جب معاشرہ انسانوں کو روحانی رشتوں کے بجائے محض مارکیٹ کی اشیاء کے طور پر دیکھنے لگتا ہے، تو انسان دوسرے انسان کی توقیر کھو دیتا ہے۔ جب دوسرا انسان ہماری مرضی کا کوٹ ریک بننے سے انکار کرتا ہے، تو ہماری متورم انا تشدد پر اتر آتی ہے۔ یہ خاموش کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان زبان سے کٹ جاتا ہے، جب مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور ہم صرف اپنے گمان کی دنیا میں جینے لگتے ہیں، تو انجامِ کار صرف تنہائی، فرسٹریشن اور تشدد ہی بچتا ہے۔
یہ پرفارمنس ایک آئینہ ہے۔ جس طرح ایک عظیم فن پارہ دیکھنے والے کو اس کے اپنے باطن کا عکس دکھاتا ہے، ارینا کے اس خاموش کھیل نے جدید انسان کو بے لباس کر دیا ہے۔ ہر شخص نے اس پرفارمنس میں وہی دیکھا جو اس کے اندر چل رہا تھا۔ وہ لوگ جو اس میں ’’سچی محبت کی وفاداری‘‘ دیکھ رہے تھے، وہ دراصل اپنے اندر کی اس تنہائی کو چھپا رہے تھے جو انھیں تحفے میں ملی ہے۔ وہ خود کو یہ تسلی دے رہے تھے کہ کوٹ ریک سے کی جانے والی محبت بھی ایک سچی محبت ہو سکتی ہے اور جن لوگوں نے اسے ’’وہم‘‘قرار دیا، وہ اس تلخ حقیقت کا سامنا کر رہے تھے کہ ہم نے رشتوں کو جس طرح مشینی اور مصنوعی بنا دیا ہے، اس میں انسان حقیقت میں تنہا ہی ہے ۔ایک ہجوم میں، ایک شور میں کھویا ہوا، اپنے ہی سائے سے گفتگو کرتا ہوا انسان۔
یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ کر جس اندھی تقلید میں جی رہے ہیں، اس کا انجام یہی کوٹ ریک کے ساتھ ہونے والا خاموش اور بے ثمر رقص ہے۔ جب تک محبت کو اس کی اصل کے تابع نہیں کیا جائے گا،، تب تک ہم بھی اپنی خواہشات کے بے جان ڈھانچوں کو سجاتے رہیں گے اور آخر میں اسی اذیت ناک تنہائی کا شکار ہوں گے جسے ارینا شیلو نے اپنے چہرے کے کرب سے بیان کیا ہے۔
الفاظ کی عدم موجودگی میں کہی گئی یہ کہانی دراصل ان الفاظ کی موت کا اعلان ہے جو جدید انسان روزانہ لاکھوں کی تعداد میں سوشل میڈیا پر ضایع کر رہا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک دلوں کا قبلہ درست نہ ہو، تمام تر شور و غل اور تمام تر رابطوں کی ایپس کے باوجود، انسان کائنات کے اسٹیج پر ایک کوٹ ریک کے سامنے کھڑا اکیلا مسخرہ ہی رہے گا۔ اس پرفارمنس کو واقعی محفوظ کر لینا چاہیے، نہ صرف ایک فن پارے کے طور پر، بلکہ جدیدیت کے اس انجام کی یادگار کے طور پر جہاں انسان نے سب کچھ پا کر، اپنا آپ اور اپنی حقیقت کھو دی ہے۔
آئیے ! اس بات پر غور کریں کہ آج کے اِس ہنگام میں کہیں ہمارا ہم رقص بھی لکڑی کا کوئی بے جان کوٹ ریک تو نہیں، جسے ہم نے اپنی خواہشات کا لباس پہنا کر حقیقت سمجھ لیا ہے؟

