تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے لارک آئی لینڈ پر حملے کے بعد اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حالیہ ہفتوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی جھڑپوں کی نئی کڑی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ’جارح کو سزا‘ کے نام سے کی جانے والی کارروائی میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات، تکنیکی اور مرمتی ڈھانچے اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نقصان پہنچا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا۔ اردنی حکام کے مطابق حملوں میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکا کی جانب سے جنوبی ایران کے لارک آئی لینڈ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ ایرانی حکام نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
امریکی فوج نے تاہم لارک آئی لینڈ پر کارروائی کو جارحیت قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے محدود اور درست کارروائی کی۔
🚫CLAIM: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) claimed in a recent statement that strikes by U.S. forces to prevent the IRGC from placing mines in the Strait of Hormuz were an “act of aggression.” This claim is absolutely FALSE.
✅FACT: U.S. forces took limited,… pic.twitter.com/XLx8xNTHto
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 31, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی میں لارک آئی لینڈ پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی بحری آمدورفت کو درپیش ممکنہ خطرے کے پیش نظر کی گئی۔
تازہ حملوں سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ایران مسلسل آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول اور اس کی بندش کے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں بحری آمدورفت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تازہ فوجی کارروائیوں سے خطے میں مزید کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

