واشنگٹن/تہران — کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران کی افواج ایک بار پھر باہم برسرِپیکار ہو گئی ہیں۔ امریکی فوج نے اتوار کو ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے والے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں قائم دو امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ تاہم اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے آٹھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کے توانائی کے مرکز خارگ جزیرے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ یہ حملہ جولائی کے اواخر کے بعد ایران کے خلاف امریکہ کی پہلی معلوم فوجی کارروائی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے اور تہران نے "جواب اور سزا” دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران پر معاشی دباؤ مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور کہا کہ اگر وہ صدر نہ ہوتے تو اسرائیل ختم ہو چکا ہوتا۔

