حکمرانی کے نظام کے روایتی چیلنجز

2726760 SalmanAbid 1729190119


یہ اچھی بات ہے نظام کے بحران اور اس کے حل کے تناظر میں قومی بحث دیکھنے کو مل رہی ہے اور نئے زاویے بھی سننے کو مل رہے ہیں۔سب سے بڑی بحث نئے صوبوں کی تشکیل یا نئے انتظامی یونٹس یا مضبوط خود مختارمقامی حکومتوں کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔ منطق یہ دی جارہی ہے کہ اگر ہم نے فوری طورپر نئے صوبوں کی تشکیل یا نئے انتظامی یونٹس بنادیے تو اس سے جادوئی بنیاد پر حکمرانی کے نظام سے جڑے مسائل حل ہوجائیں گے۔

اہم نقطہ یہ ہے یہ بحث سیاسی جماعتوں ،پارلیمنٹ اور حکومت کی سطح پر کم ہے جب کہ دیگر طبقات کی سطح پر اسے خاص بالادستی حاصل ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں، حکمران طبقات اور پارلیمنٹ میں حکمرانی کے نظام کی بہتری کے لیے کوئی سنجیدہ بحث یا مضبوط سطح کی سیاسی کمٹمنٹ کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں حکمرانی کا نظام جدید تبدیلیوں کا مخالف ہے ، حکمران طبقات روائتی بنیاد پر اپنے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔پہلی بات تو یہ سمجھنی ہوگی کہ محض نئے صوبوں کی تشکیل سے حکمرانی کا نظام بہتر نہیں ہوتا بلکہ یہ بہتری کی طرف ایک قدم ہوسکتا ہے۔

اصل میں تو ہمیں بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہیں اور جب تک اداروں کے بنیادی ڈھانچے تبدیل نہیں ہونگے سروس ڈلیوری کی عمل منصفانہ اور شفاف نہیں ہوسکتا۔یہ ایسے ہی ہے کہ عوامی مفاد کی بنیاد پر بہت سی پالیسیاں اور قانون سازی کرلیں لیکن ہم اگر اسکے عملدرآمد کے نظام،  نگرانی، جوابدہی اور وسائل کے نظام کو موثر نہیںبنائیں گے تو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکیں گے۔اسی طرح میڈیا کی سطح پر پارلیمانی اور صدارتی نظام کی بحث بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں بھی28ترمیم کی بنیاد پر بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی بات بھی سامنے آئی ہے جو نہ صرف ان مقامی حکومتوں کے نظام کو مکمل آئینی تحفظ دے گا بلکہ یہ نظام صوبوں سے وفاق کی طرف منتقلی کا منصوبہ بھی ہے اور ان کو وسائل بھی وفاق کی جانب سے دیے جائیں گے۔جنرل مشرف کے دور میں بھی یہ نظام وفاق کی نگرانی میں چلا تھا اور بعد میں 18ویں ترمیم میں یہ نظام صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیا گیا تھا۔اسی طرح یہ باتیں بھی سننے کو مل رہی ہیں کہ اگر معاملات انتظامی یونٹس کی طرف جانے ہیں تو اس میں بھی وفاق کے کردار کی اہمیت زیادہ ہوگی۔

یہ سب کچھ جو نظام کی تبدیلی یا حکمرانی کے نظام کی ناکامی کی بحث ہورہی ہے اس پر بڑی سیاسی جماعتوں کی خاموشی یا نیم دلی خاموشی اور کھل کر اپنے موقف کا اظہار نہ کرنا بھی ان کی کمزور موقف اور سیاست کے زمرے میں آتا ہے۔جب بڑی سیاسی جماعتیں ان معاملات پر جو بڑی بحث کے تناظر میں سامنے آرہے ہیں اس پر ان کی حمایت اور مخالفت میںکھل کراظہار نہیں کریں گی تو اس سے خود ان کی اپنی سیاست بھی کمزور ہوگی۔اصل میں بڑی سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں یہ ساری بحث کہاں سے آئی ہیں اور اسی بنیاد پر ان کی سیاسی خاموشی بھی سمجھ میں آتی ہے۔ سیاسی جماعتوں یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے اچانک ہم مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت اور افادیت اور اس کی مضبوطی کی بحث دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے اس ملک میں جو بھی جماعتیں اقتدار کی سیاست کا حصہ دار رہی ہیں سب کا ٹریک ریکارڈ مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم قبولیت سے جڑا ہوا ہے۔ 

جس جماعت کو بھی اقتدار ملا اس نے مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کیا اور اس نظام کو عملی طور پر مفلوج کیا اور یہ نظام صوبائی مرکزیت یابیوروکریسی کی طاقت کا مرکز رہا۔ صوبائی حکومتیں کسی بھی صورت میں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کے خلاف ہے۔ ابتدائی طورپر اگر ہم اپنے آئینی تقاضوں کے مطابق تین سطح کی حکومت کے ماڈل کو تسلیم کرلیں یعنی وفاقی،صوبائی اور خود مختار مقامی حکومتیں تو معاملات حکمرانی کے نظام کی بہتری میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کے ہم صوبائی حکومتوں کے موجودہ روائتی اور اینٹی مقامی حکومت کردار سے مختلف نوعیت کی قانون سازی سے باہر نکال سکیں اور مقامی حکومت کو یہ اختیار مل سکے کہ وہ خود مختاری کی بنیاد پر اپنی مرضی اور اپنے منتخب ارکان سے اپنا نظام چلاسکیں اور اس میں کم سے کم صوبائی حکومتوں کی عملی طور پر مداخلت ہو۔ ایک بڑا مسئلہ وسائل کی تقسیم کی عمل غیر منصفانہ ہے۔

اول صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف رنجش رکھتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے صوبوں کی بنیاد پر نظرانداز کیا جارہا ہے تو دوسری طرف صوبوں کے اپنے اندر چھوٹے علاقوں میں احساس محرومی پائی جاتی ہے کہ ہمیں ہمارے ہی صوبے میں چھوٹے اور پس ماندہ علاقے کی وجہ سے نظرانداز کیا جاتا ہے تو عملی طور ان علاقوں میں تفریق کی سیاست کو پیدا کرتا ہے۔ اصل میںہم صوبائی خود مختاری پر تو بہت زیادہ بات کرتے ہیں اور اس پر بہت اسٹینڈ بھی لیتے ہیںلیکن یہ ہی سکہ بند بھول جاتے ہیں کہ صوبائی خود مختاری براہ راست ضلعی خود مختاری کے اصول سے بھی جڑی ہوئی ہے۔اس لیے اگر صوبے ضلعوں کو سیاسی اور انتظامی سمیت مالی طور پر خود مختار نہیں بنائیں گے صوبائی خود مختاری اپنی اہمیت کھودے گی۔

نئے صوبے ہوں یا نئے انتظامی یونٹس یا مقامی حکومتوں کا نظام یہ سب حکمرانی کے نظام کی سنجیدہ بحثیں اور ان کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ ہی ہم کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔یہ فیصلے نہ تو سیاسی عجلت میں ہونے چاہیے اور نہ ہی اس میں جذباتیت کا پہلو نظر آئے۔یہ بحث سب فریق کوشامل کرکے کی جانی چاہیے کیونکہ نئے صوبوں کی تشکیل کوئی آسان بات نہیں اس میں سب سے بڑی رکاوٹ تو قانونی ہے جہاں ہمیں چاروں صوبائی اسمبلیوں،قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت درکار ہے اور یہ کام غیر معمولی نوعیت کا ہے۔حکمرانی کے طور طریقوں سے باہر نکل کر کچھ نیا دکھانا ہوگا۔ ہمیں قومی سطح پر اتفاق رائے درکار ہے۔ اگر ریاست،سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ اس کے حق میں فیصلہ کرتی ہیں تو اس پر بحث ہوسکتی ہے۔لیکن اچھی حکمرانی کے لیے پہلی شرط مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کا نظام ہے ، اسے آئینی تحفظ دے کر صوبائی حکومتوں کو جواب دہ بناکر ہی ہم حکمرانی کے نظام کی اصلاح کا آغاز کرسکتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ