انڈیا کی حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کی خودنوشت اس وقت تنازع کا موضوع بن گئی ہے، کیونکہ اس کے متوقع ناشر نے مبینہ طور پر وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق بعض اقتباسات میں تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کا اعلان پہلی مرتبہ اگست میں پینگوئن رینڈم ہاؤس کے ادارتی برانڈ الفریڈ اے نوف کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کی اشاعت 10 نومبر کو متوقع تھی۔
اس کتاب میں سونیا گاندھی کی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے، جس میں جنگِ عظیم دوم کے بعد کے اٹلی سے لے کر سابق انڈین وزیرِ اعظم راجیو گاندھی سے ان کی شادی، ان کے شوہر اور ان کی والدہ و سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل، اور بعد ازاں سیاست میں ان کے داخلے تک کی داستان شامل ہے۔
توقع تھی کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا (PRHI) اس کتاب کو انڈیا میں شائع اور تقسیم کرے گا، تاہم سونیا گاندھی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ادارے نے منصوبے سے دست برداری اختیار کر لی۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی وجہ ناشر کی جانب سے ’ادارتی تبدیلیوں اور حذف‘ کے مطالبات تھے، جنہیں سونیا گاندھی کے نمائندوں نے مسترد کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ناشر کے وکلا نے کتاب کے متعدد حصوں پر اعتراضات اٹھائے اور کم از کم دو ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران سونیا گاندھی کے نمائندوں کو مجوزہ تبدیلیوں کی فہرستیں ارسال کیں۔
نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ ابتدائی طور پر مذاکرات ’خوشگوار‘ تھے، تاہم اختتام کے قریب آتے آتے ماحول ’کشیدہ‘ ہوتا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اعتراضات میں نریندر مودی اور ان کے بطور وزیرِ اعظم 12 سالہ دور کا حوالہ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، جو ملک کی تقریباً تمام بڑی ہندو قوم پرست تنظیموں بشمول مودی کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مادر تنظیم سمجھی جاتی ہے، فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ رویہ، نیز انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی، بشمول 2020 میں ہمالیائی سرحد پر ہونے والی جھڑپیں جن میں متعدد فوجی مارے گئے تھے، شامل ہیں۔
سونیا گاندھی کے ایک معاون نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ کتاب میں مودی کے ساتھ ان کی ملاقاتوں اور ان بیانات پر ان کے ردعمل کا ذکر بھی شامل ہے جنہیں وہ توہین آمیز سمجھتی تھیں، مثلاً 2004 میں ایک عوامی جلسے کے دوران مودی کا انہیں ’جرسی گائے‘ کہنا، جس سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ غیر ملکی ہیں اور انڈین نہیں۔
معاون نے اخبار کو بتایا: ’ان کا سیاسی کیریئر بہت طویل رہا ہے، اسی لیے یہ خودنوشت بھی بہت جامع ہے۔ انہوں نے یقیناً وزیرِ اعظم کے بارے میں اپنے تاثرات اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات بیان کی ہیں جو ان کے درمیان ہوئیں۔ بطور سیاست دان انہوں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس معاملے سے کیسے نمٹا گیا، لیکن ناشرین کو اسی پر اعتراض تھا۔‘
رپورٹس کے مطابق کتاب میں انڈیا اور چین کے سرحدی تنازع پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی ہے، جس میں ان علاقوں میں چینی دراندازی کا ذکر شامل ہے جن پر جنوبی ایشیائی ملک دعویٰ کرتا ہے۔ کتاب میں آر ایس ایس کے انڈین عوامی زندگی اور معاشرے پر اثر و رسوخ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ نریندر مودی مکمل وقت کی سیاست میں اپنی وابستہ جماعت بی جے پی کے ذریعے آنے سے قبل آر ایس ایس کے رکن رہ چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گاندھی کے نمائندوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پی آر ایچ آئی کے وکلا ضرورت سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مجوزہ حذف شدہ حصوں کی وجہ سے کتاب کے الگ انڈین اور بین الاقوامی ایڈیشن شائع کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس عمل سے وابستہ ایک شخص نے بتایا کہ اس صورت میں انڈین قارئین کو یہ جاننے کے لیے دونوں ایڈیشنز کا موازنہ کرنا پڑے گا کہ ’کیا کچھ تبدیل یا سنسر کیا گیا ہے۔‘ انڈین ایکسپریس نے یہ بات رپورٹ کی۔
پی آر ایچ آئی نے اس معاملے کی اس تشریح سے اختلاف کیا اور جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ وہ اب بھی Belonging شائع کرنے کے لیے ’تیار اور پُرعزم‘ ہے۔
ناشر نے کہا: ’پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا، Belonging کا انڈیا میں ناشر نہیں ہے۔ بطور ناشر حقائق کی جانچ کرنا اور مصنفین کو ایسی تجاویز دینا جو ان کی کتابوں کے بہترین مفاد میں ہوں، ہمارا اختیار بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ یہ اشاعتی عمل کا ایک معمول کا حصہ ہے۔‘
پیر کو پی آر ایچ آئی کی ترجمان پلوی نارائن نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اس خودنوشت کے اشاعتی حقوق حاصل کرنا ’بڑی محنت سے حاصل کی گئی کامیابی‘ تھی۔
انہوں نے کہا: ’مصنف کے نمائندوں کے ساتھ ہماری بات چیت کے دوران کئی نکات زیرِ بحث آئے۔ بعض معاملات میں وہ تبدیلیوں پر رضامند ہوئے، جبکہ بعض پر ہم نے مصنف کا مؤقف تسلیم کر لیا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’بدقسمتی سے ایک خاص مسئلے پر فریقین کسی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے بعد مصنف کی ٹیم نے ہمیں آگاہ کیا کہ وہ اس منصوبے پر مزید آگے نہیں بڑھنا چاہتی، اور ہم نے ان کے فیصلے کا احترام کیا۔‘
اگرچہ پی آر ایچ آئی نے کہا کہ وہ ’اس تعطل کی وجوہات کی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گا‘، تاہم اس نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ فیصلے پر کسی سیاسی عنصر کا اثر تھا۔
ناشر کے مطابق: ’اس معاملے میں کسی قسم کا بیرونی دباؤ موجود نہیں تھا۔‘
اب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یادداشتوں کی اس کتاب کے انڈین اشاعتی حقوق غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق ہارپر کولنز انڈیا ایک معاہدہ حتمی شکل دینے کے قریب ہے، جبکہ دیگر کئی ناشر بھی دوڑ میں شامل ہیں۔
ایمازون انڈیا پر موجود ایک اندراج کے، جس کی دی انڈپینڈنٹ نے تصدیق کی، مطابق اس خودنوشت کا کنڈل ایڈیشن پیشگی آرڈر کے لیے دستیاب ہے اور اس کے ناشر کے طور پر ہارپر کولنز کے امپرنٹ ولیم کولنز کا نام درج ہے۔
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے ہارپر کولنز سے رابطہ کیا، تاہم فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اسی سال جون میں پی آر ایچ آئی نے جو سیکو کی کتاب The Once and Future Riot کی تقسیم کا منصوبہ ترک کر دیا تھا۔ یہ کتاب شمالی انڈیا کے شہر مظفر نگر میں 2013 کے فرقہ وارانہ فسادات پر مبنی ایک تصویری بیانیہ ہے۔
2014 میں بھی پی آر ایچ آئی نے وینڈی ڈونیگر کی کتاب The Hindus واپس لینے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ فیصلہ ہندو قوم پرست تنظیم شکشا بچاؤ آندولن کے ساتھ عدالت سے باہر ہونے والے تصفیے کے بعد کیا گیا، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ کتاب ہندو مذہبی جذبات مجروح کرتی ہے۔
معاہدے کے تحت پینگوئن کو انڈیا میں موجود کتاب کی باقی تمام کاپیاں واپس لے کر تلف کرنا تھیں، اگرچہ بین الاقوامی ایڈیشن بدستور دستیاب رہے۔



