’وزیر داخلہ کے خلاف‘ ٹوئٹ کے معاملے پر دہلی پولیس نے سابق نوکر شاہ سے پوچھ گچھ کی، اہل خانہ سے رابطہ نہیں کرنے دیا گیا

Ashish Joshi e1788419553877


ریٹائرڈ بیوروکریٹ آشیش جوشی سے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے 2 ستمبر کو تقریباً 10 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ وہ سوشل میڈیا پر نریندر مودی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ 13 اگست 2026 کو ان کی ایک پوسٹ سے حکومت اس قدر ناراض ہوئی کہ اس نے ایکس کو ہندوستان میں اس پوسٹ کو روکنے کا آرڈر دیا تھا۔

Ashish Joshi e1788419553877

آشیش جوشی۔ (فائل فوٹو: Twitter/@acjoshi)

نئی دہلی: دہلی پولیس نے بدھ (2 ستمبر) کی صبح نہرو پارک میں مارننگ واک کے دوران سینئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ آشیش جوشی کو اپنے ساتھ لے جا کر تقریباً 10 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ دی وائر اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔

آخرکار شام کو انہیں گھر جانے دیا گیا اور دہلی پولیس کی اسپیشل سیل انہیں گھر چھوڑنے گئی۔

جوشی انڈین پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن اکاؤنٹس اینڈ فنانس سروس کے 1992 بیچ کے افسر ہیں۔ وہ 31 مارچ 2026 کو حکومت ہند میں ایڈیشنل سکریٹری کے عہدے کے مساوی سطح کے افسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر وہ نریندر مودی حکومت کے سخت  ناقد رہے ہیں۔

جوشی کے ایک دوست، جو پولیس کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے کے واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں، نے دی وائر کو بتایا کہ شاید وزیر داخلہ امت شاہ کے ’خلاف‘ ان کی کسی پوسٹ کی وجہ سے ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

فوراًیہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پولیس کس ٹوئٹ کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی تھی، لیکن 13 اگست 2026 کو ان کی ایک پوسٹ سے حکومت اس قدر ناراض ہوئی تھی کہ اس نے ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) کوہندوستان میں اس پوسٹ کو روکنے کا آرڈردیا تھا۔

Joshi tweet

حکومت کی ہدایت پت پر ہندوستان میں آشیش جوشی کا 13 اگست 2026 کا ٹوئٹ روک دیا گیا۔

جوشی کے دوست نے دی وائر کو بتایا، ’ہم تقریباً 8:40 بجے نہرو پارک میں لینن کے مجسمے کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں پانی پینے کے لیے کچھ دیر کے لیے وہاں سے چلا گیا۔ چند منٹ بعد جب واپس آیا تو دیکھا کہ دو نوجوان جوشی کی طرف آ رہے تھے اور پھر ان سے بات کرنے لگے۔‘

انہوں نے بتایا کہ دونوں نے اپنا تعارف نیو فرینڈز کالونی میں واقع دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے افسران کے طور پر کرایا۔ ان کے ہاتھ میں ایک فولڈر بھی تھا۔

دوست کے مطابق، افسران نے جوشی سے کہا، ’آپ نے وزیر داخلہ کے خلاف ٹوئٹ کیا ہے اور ہمیں ڈی سی پی چندرا اور اے سی پی کشواہا نے آپ کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لانے کا حکم دیا ہے۔‘

اس دوست، جس نے اس خبر کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے افسران میں سے ایک سے پوچھا کہ وہ جو بھی سوال پوچھنا چاہتے ہیں، وہ پارک میں ہی کیوں نہیں پوچھ سکتے، تو افسران نے کہا کہ انہوں نے جوشی کی لوکیشن پارک میں ٹریس کی تھی، کیونکہ پوچھ گچھ کے لیے انہیں اسپیشل سیل لے جانا ضروری ہے۔

دوست نے بتایا کہ انہوں نے پولیس سے یہ درخواست کی کہ جوشی کو پہلے گھر جانے دیا جائے تاکہ وہ اپنے ’کپڑے‘ یعنی شارٹس تبدیل کر سکیں۔ تاہم، جوشی نے خود کہا کہ انہیں اسی حالت میں جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس کے بعد جوشی اور ایک پولیس افسر ان کی کار میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے، جبکہ دوسرا افسر جاپانی سفارت خانے کے قریب کھڑی پولیس کی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ دونوں گاڑیاں وہاں سے روانہ ہو گئیں۔

اس پورے واقعے کے عینی شاہد دوست نے بتایا کہ بعد میں وہ اپنی کار سے نیو فرینڈز کالونی تھانے پہنچے، جہاں پولیس نے جوشی کے بارے میں کسی بھی طرح کی معلومات ہونے سے انکار کر دیا۔

جوشی کے ایک دوست کے مطابق، اس دوران ان کا فون مسلسل بند رہا اور شام 5:23 بجے ہی دوبارہ آن ہوا۔ اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد جوشی نے ٹوئٹ کر کے بتایا کہ وہ گھر واپس آ گئے ہیں۔

اہل خانہ کو اطلاع نہ دینے کا الزام

تین ستمبر کو رات 1:31 بجے جوشی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ان سے کی گئی پوچھ گچھ کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار اور دہلی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا؛’پوچھ گچھ یا حراست کے دوران کسی شخص کے خاندان کو مطلع کرنا قانونی تقاضہ ہے، کوئی اختیاری شائستگی نہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’کل، مجھے مارننگ واک کے بعد یہ یقین دہانی کرا تے ہوئے پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا کہ اس میں بہت کم وقت لگے گا۔ تاہم، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میں نے اپنی اہلیہ کو اپنی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے بار بار درخواست کی، لیکن متعلقہ پولیس افسران نے صرف اتنا کہا کہ وہ ’ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔‘

’مجھے شام 6:38 بجے ہی فون کرنے کی اجازت ملی، جس کی وجہ سے میرا خاندان اور دوست پورا دن شدید تشویش میں مبتلا رہے۔‘

انہوں نے کہا، ’میری درخواست ہے کہ آپ تمام اکائیوں کو واضح ہدایات جاری کریں کہ وہ افسران کو پوچھ گچھ کے لیے لے جائے گئے کسی بھی شخص کے اہل خانہ کو فوری طور پر مطلع کرنے کی قانونی ذمہ داری پر سختی سے عمل کریں ، تاکہ کسی بھی شہری کے خاندان کو اس پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے جس سے میرے خاندان کو گزرنا پڑا۔‘

جوشی نے اس کے ساتھ فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کی چند سطریں بھی پوسٹ کیں۔

اس خبر کی اشاعت تک دہلی پولیس اسپیشل سیل کی انٹلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ کو بھیجے گئے سوال کا بھی کوئی جواب نہیں ملا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ