گیانیش کمار سے متعلق ٹوئٹ پر ایف آئی آر، لیکن پوچھ گچھ کا فوکس امت شاہ سے متعلق پوسٹ

joshi


سابق نوکرشاہ آشیش جوشی نے بتایا کہ دہلی پولیس انہیں مارننگ واک کے بیچ اچانک اپنے ساتھ لے گئی اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ اس دوران انہوں نے پولیس سے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی مانگی، لیکن  انہیں یہ کاپی نہیں دی گئی۔تاہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق ان کی پوسٹ پر درج ہوئے کیس کی تفتیش میں ان سے وزیر داخلہ اور ہوم سکریٹری کے درمیان ’ٹکراؤ‘ سے متعلق پوسٹ اور اس کے ذرائع کے بارے میں بھی سوال کیے گئے۔

joshi

سابق نوکرشاہ آشیش جوشی۔ (فوٹو: فیس بک/آشیش جوشی)

نئی دہلی: سابق نوکرشاہ آشیش جوشی کے تین ہفتے پرانے ایک ٹوئٹ نے بدھ کو دہلی پولیس کی جانب سے ان سے کی گئی  پوچھ گچھ کے دوران مرکزیت حاصل کر لی۔ اس ٹوئٹ میں جنتر منتر پر مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور ہوم سکریٹری کے درمیان مبینہ ’ٹکراؤ‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔

جوشی کو مبینہ طور پر شہر کے ایک پارک سے اٹھا کر پوچھ گچھ کے لیے تھانے لے جایا گیا تھا۔ پولیس نے اس کے لیے 26 اگست کو کیے گئے ان کے ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر درج ایف آئی آر کا حوالہ دیا تھا۔ اس ٹوئٹ میں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نیورمبرگ کی طرز پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جوشی نے ’دی وائر‘ کو بتایا کہ پولیس کی پوچھ گچھ کا بنیادی فوکس یہ معلوم کرنا تھا کہ 13 اگست کو امت شاہ سے متعلق ٹوئٹ کرنے سے پہلے کے دو دنوں کے دوران ان کی سرگرمیاں کیا تھیں اور وہ کن لوگوں کے رابطے میں تھے۔

معلوم ہو کہ وزیر داخلہ اور ہوم سکریٹری گووند موہن کے درمیان مبینہ اختلافات سے متعلق اس ٹوئٹ کو مودی حکومت کی ہدایر  پر ایکس نے ہندوستان میں روک دیا ہے۔

Joshi tweet

حکومت کی ہدایت پت پر ہندوستان میں آشیش جوشی کا 13 اگست 2026 کا ٹوئٹ روک دیا گیا۔

جوشی کے مطابق، بدھ کی صبح نہرو پارک میں سادہ لباس میں آئے دو پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر سے متعلق ان کے ٹوئٹ کے سلسلے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 192 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس دفعہ کے تحت ’فساد بھڑکانے کے ارادے سے جان بوجھ کر اشتعال دلانا‘ جرم ہے۔

پولیس اہلکاروں نے انہیں کچھ دیر کے لیے ایف آئی آر والی ایک فائل دکھائی، لیکن پھر اسے واپس لے لیا۔ جوشی کو بتایا گیا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کے خلاف ٹوئٹ کیا ہے اور پوچھ گچھ کے لیے انہیں پولیس اہلکاروں کے ساتھ تھانے چلنا ہوگا۔

تھانے میں انہیں ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک انتظار کروایا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی اہلیہ کو فون کرکے یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ انہیں روک لیا گیا ہے اور کچھ وقت تک وہ گھر واپس نہیں جا سکیں گے۔ بعد میں جب ان کی اہلیہ نے فون کیا تو انہیں فون اٹھانے کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ نہیں بتایا کہ پولیس نے انہیں حراست میں لیا ہے۔

اس کے بعد پولیس نے ان کا فون اپنے قبضے میں لے لیا اور ان سے فون ان-لاک کرنے کو کہا۔ پھر فون کو ’فلائٹ موڈ‘ میں ڈال دیا گیا تاکہ اس کے بعد کوئی اور کال نہ آ سکے۔

جوشی کے مطابق، انہوں نے پوچھ گچھ کرنے والے پولیس اہلکاروں سے ایف آئی آر کی ایک کاپی مانگی، لیکن انہیں یہ نہیں دی گئی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ شکایت کنندہ کون ہے، تو پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ پولیس نے 28 اگست کو چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سے متعلق ان کے ٹوئٹ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ درج کیا ہے۔

جوشی نے کہا،’انہوں نے مجھ سے یہ ضرور پوچھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’نیورمبرگ کی طرز پر مقدمے‘ سے میری آخر کیا مراد تھی۔ لیکن انہوں نے جو سوالنامہ مجھے دیا اور اس کے بعد جس طرح کے سوال کیے، اس سے واضح ہو گیا کہ ان کی اصل تحقیقات اس بات پر مرکوز تھی کہ مجھے امت شاہ اور ہوم سکریٹری کے درمیان ہوئے بڑے ٹکراؤ کے بارے میں معلومات کیسے ملیں اور میں نے اس پر ٹوئٹ کیوں کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’وہ بار بار پوچھتے رہے کہ اس ٹوئٹ کے لیے میری معلومات کا ذریعہ کون تھا۔ میں نے اخلاقی بنیادوں پر اس کا انکشاف کرنے سے انکار کر دیا۔‘

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ انہوں نے فون پر مختلف لوگوں، خصوصی طور پر ریٹائرڈ آئی اے ایس اور پولیس افسران، سے بات کیوں کی تھی اور ان فون کال میں کیا بات چیت ہوئی تھی۔

جوشی نے بتایا کہ ان سے پوچھ گچھ مہذب انداز میں کی گئی۔ پوچھ گچھ ختم ہونے کے بعد پولیس نے اصرار کیا کہ وہ انہیں گھر چھوڑیں گے۔ جب جوشی نے انہیں یاد دلایا کہ وہ اپنی ہی کار سے ان کے ساتھ تھانے آئے تھے، تو پولیس اہلکاروں نے کہا کہ وہ ان کی کار بھی گھر پہنچا دیں گے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ