امریکی ڈرون حملے میں شادی کی تقریب ماتم کدہ بن گئی، ۵ افراد جاں بحق

iran civil attack d


ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جنوبی صوبے ہرمزگان کے سیریک کاؤنٹی میں شادی کی تقریب کے دوران ایک رہائشی مکان پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ بدھ کی صبح کوہستک شہر میں کیا گیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے "وحشیانہ حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں خواتین اور بچوں سمیت ۵۰ سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ وزارت صحت کے عہدیدار حسین کرمان پور نے ایکس پر تصدیق کی کہ ہلاک شدگان میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ حملے کے باعث علاقے میں بجلی اور ٹیلی فون کی سہولت بھی منقطع ہوگئی۔
سیریک کاؤنٹی کے گورنر رضا شاہدیان نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو بتایا کہ ۶۳ افراد زخمی ہوئے، جن میں ۵۰ خواتین اور بچے شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو قریبی شہر میناب کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے تباہ شدہ عمارت کی فوٹیج جاری کی جس میں دیواریں اور کھڑکیاں دھماکے سے مکمل تباہ دکھائی دیں۔
نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے حملے میں بچ جانے والے ایک بچے کا بیان بھی نشر کیا۔ بچے نے بتایا کہ تقریب پہنچنے سے قبل ہی اس نے جنگی طیاروں کی آواز سنی تھی۔ "جب ہم وہاں پہنچے تو ایک شدید دھماکہ ہوا۔ اینٹیں، پتھر اور سیمنٹ میرے چہرے اور سر سے ٹکرائے، بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ وہاں سب عام شہری تھے۔”

متعلقہ پوسٹ