اسلام آباد:
پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی 2ماہ کے دوران 18 فیصد اضافے کے ساتھ 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں تقریباً دگنی رہی۔
یہ خسارہ جمعرات کو پاکستان کی جانب سے بیرونی ادائیگیوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے حاصل کیے گئے مہنگے 3 ارب ڈالر کے قرض سے بھی دگنا سے زیادہ ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق رواں مالی سال کے جولائی اور اگست کے دوران درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.1 ارب ڈالر یا 18 فیصد زیادہ ہے۔
7.1 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ حکومت کی جانب سے جمعرات کو عالمی کیپٹل مارکیٹ سے حاصل کیے گئے 3 ارب ڈالر کے مہنگے قرض سے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔
حکومت نے یہ قرض ساڑھے پانچ سے 10 سال کی مدت کے لیے حاصل کیا، جس پر موجودہ مارکیٹ قیمت کے حساب سے تقریباً 7.9 فیصد سے 8.25 فیصد کی حقیقی شرح منافع ادا کرنا ہوگی۔
پاکستان کے بیرونی شعبے کا استحکام اب کسی بھی مدت اور حجم کے غیر ملکی قرضوں کی مسلسل آمد پر منحصر ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ قرض پیدا نہ کرنے والے دو اہم ذرائع، یعنی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور برآمدات، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کے باوجود خاطر خواہ اضافہ نہیں کرسکے۔
جولائی میں برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد اگست میں دوبارہ اپنی روایتی سطح یعنی تقریباً 2.5 ارب ڈالر ماہانہ پر آگئیں۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب برآمد کنندگان کو حکومت کی جانب سے خصوصی توجہ، رعایتی قرضوں اور دیگر مالی مراعات سمیت تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
برآمد کنندگان کا موقف ہے کہ برآمدات میں جمود کی ایک بڑی وجہ مضبوط پاکستانی روپے کی قدر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ برآمدی مسابقت کو متاثر کر رہا ہے، اگرچہ اسٹیٹ بینک کا غیر شفاف اشاریہ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (REER) امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 8 فیصد کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی دو ماہ کے دوران درآمدات 12.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 ارب ڈالر یا 13 فیصد زیادہ ہیں۔
عالمی بینک، آئی ایم ایف اور غیر ملکی مشیروں کی رہنمائی میں تیار کی گئی قومی ٹیرف پالیسی کے تحت حکومت نے غیر ملکی مسابقت کے لیے ملکی معیشت کو مزید کھول دیا ہے، تاہم اس سے قبل کاروباری شعبے کے لیے ایسا سازگار ماحول پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی درآمدات میں اضافے کے اثرات برداشت کرنے کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
عالمی بینک نے پیش گوئی کی تھی کہ نئی ٹیرف پالیسی کے نتیجے میں برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ درآمدات میں صرف 7 فیصد اضافہ متوقع ہوگا۔
پالیسی کے پہلے سال کے مایوس کن نتائج کے بعد دوسرے مالی سال میں بھی رجحان یہی دکھائی دے رہا ہے کہ درآمدات میں اضافہ برآمدات کے مقابلے میں تقریباً دگنی رفتار سے ہو رہا ہے۔

