امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی نہ کرے تو وہ ان ممالک کے ساتھ تجارت روک دیں گے جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ ہے، اور انہوں نے مرکزی بینک کے عہدیداروں پر زور دیا ہے کہ وہ قرضے لینے کی لاگت کم کریں۔�
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اگست کے روزگار کے اعداد و شمار کے فوراً بعد لکھا کہ امریکی معیشت کی مضبوطی شرح سود کم کرنے کا جواز بنتی ہے، اور امریکہ کو دنیا میں “سب سے کم شرح سود” رکھنی چاہیے۔ انہوں نے براہِ راست فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش اور بورڈ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ہوشیار بنیں” اور “محب وطن بنیں”، اور دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسی کارروائی کا قانونی اختیار موجود ہے۔
ان کے پیغام کا مرکزی حصہ یہ تھا: “LOWER THE RATE OR I’LL STOP TRADING WITH COUNTRIES WITH WHICH WE HAVE A DEFICIT”، یعنی شرح سود کم کرو ورنہ میں ان ممالک کے ساتھ تجارت بند کروں گا جن کے ساتھ ہمارا تجارتی خسارہ ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ ان ممالک کو بڑے تجارتی سرپلس کی اجازت دینا بند کر دے — جو وہ کہتے ہیں فوراً ممکن ہے — تو وہ ممالک “مالی اعتبار سے اشرافیہ” نہیں رہیں گے۔
اگست میں امریکی معیشت میں 162,000 نئی نوکریاں شامل ہوئیں، جو متوقع سے کہیں زیادہ تھیں، اور ٹرمپ نے اسے شرح سود کم کرنے کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا۔ تاہم، کچھ مارکیٹ تجزیہ نگاروں نے مضبوط روزگار کے اعداد و شمار کو شرح سود میں اضافے کے دلائل کے طور پر بھی دیکھا، جس سے فیڈ کی پالیسی کے بارے میں بحث تیز ہو گئی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں صدر کو مکمل اختیار تسلیم کیا گیا ہے، اور انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ٹیرف لگانے سے “بہتر” ہے۔
یہ بیان عالمی منڈیوں اور تجارتی شراکت داروں کے لیے اہم ہے، کیونکہ ٹرمپ نے واضح طور پر تجارتی سرپلس رکھنے والے ممالک کو دباؤ کا نشانہ بنایا ہے۔ ماہرین اسے فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر سیاسی دباؤ میں اضافہ اور ممکنہ تجارتی کشیدگی کے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

