پیپلزپارٹی کا وفاقی وزرا کے بیانات کے خلاف عوامی سطح پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ
نئے صوبوں کی باتوں کے پیچھے 18 ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف سازش نظر آتی ہے، نثار کھوڑو
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کا اہم اجلاس صدر نثار کھوڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا کی جانب سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق بیانات کے خلاف عوامی سطح پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں سندھ بھر میں ڈویژنل سطح پر وحدتِ سندھ سیمینارز منعقد کرانے اور 12 ستمبر کو سندھ بھر میں ’’سندھ دھرتی ماں ہے‘‘ کے عنوان سے ریلیاں نکالنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی وزرا کے بیانات صوبے کی آئینی حیثیت میں مداخلت کے مترادف ہیں، وزیراعظم وفاقی وزرا کو نئے صوبوں سے متعلق بیان بازی سے روکیں۔
پیپلزپارٹی سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ آئین کے تحت صوبائی اختیار ہے، وفاقی حکومت صوبوں کی آئینی حیثیت میں مداخلت سے باز رہے۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت موجود نہیں، جمہوریت کے تسلسل کو کمزور کرنے اور ملکی سالمیت سے کھیلنے کی کوشش نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وفاقی وزرا نئے صوبوں سے متعلق افواہیں اور غلط فہمیاں پھیلانا بند کریں۔
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی باتوں کے پیچھے 18 ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف سازش نظر آتی ہے۔
پیپلزپارٹی سندھ کے رہنما وقار مہدی نے کہا کہ سندھ کے لوگ کراچی سے کشمور تک ایک آواز ہیں اور سندھ ایک رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے خلاف کوئی اقدام اٹھایا گیا تو پیپلزپارٹی مزاحمت کرے گی، پیپلزپارٹی وفاق کی علامت اور جمہوریت کے لیے ہراول دستہ ہے۔
وقار مہدی نے مزید کہا کہ سندھ کی وحدت کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

