پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ارکان نے ضلع باغ میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار جان سے چلا گیا۔
پونچھ ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جے اے اے سی کے مسلح افراد نے صبح چھ بج کر 35 منٹ پر کوپرا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی۔
بیان میں کہا گیا ’فائرنگ کے نتیجے میں ضلع کرک کے رہائشی کانسٹیبل رحیم گل گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہ واقعہ وادی میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری جان لیوا جھڑپوں کے بعد پیش آیا ہے، جن میں جولائی میں شروع ہونے والے علاقائی انتخابات کے دوران ہونے والی جھڑپیں بھی شامل ہیں۔
جے اے اے سی ایک عوامی تحریک ہے جو معاشی مسائل، طرز حکمرانی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق مطالبات کے لیے مہم چلاتی رہی ہے۔
اسے مقامی حکومت نے جون میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دے دیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ جوابی فائرنگ میں حملہ آوروں میں سے ایک مارا گیا، جس کے قبضے سے دو دستی بم، ایک کلاشنکوف رائفل، گولیاں اور خنجر برآمد ہوا۔
پولیس نے مزید کہا کہ مرنے والے حملہ آور کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ’ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔‘
جے اے اے سی نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے پولیس پر ’حقائق کے منافی‘ پریس ریلیز جاری کرنے کا الزام عائد کیا۔
جے اے اے سی نے کہا ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ مسلح حملے، فائرنگ یا کسی بھی قسم کے تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘
جے اے اے سی نے کہا اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک کو بدنام کرنے کے لیے یہ حملہ ’مذموم طور پر تعینات کیے گئے عناصر‘ کے ذریعے کیا گیا ہو۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس نے مزید کہا ’جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد کہانیاں گھڑنے کی بجائے حکام کو پرامن اور غیر مسلح عوام کے پہلے ہی تسلیم کیے جاچکے مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔‘
جے اے اے سی اور کشمیر کے حکام کے درمیان تنازعے کی بنیادی وجہ اسمبلی کی ان 12 نشستوں کی آئینی تخصیص پر کمیٹی کی مخالفت ہے جو پاکستان کے دیگر علاقوں میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
یہ نشستیں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے بے گھر ہو کر پاکستان کے دیگر علاقوں میں آباد ہونے والے افراد کو سیاسی نمائندگی فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔
جے اے اے سی کا مؤقف ہے کہ اس انتظام سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے اور اس نے ان نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

