
(ویب ڈیسک)مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں 21 سالہ لڑکی پائل دیوی کے چناب دریا میں کودنے کے واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی، لڑکی نے مبینہ طور پر دریا میں چھلانگ لگانے سے قبل اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ ’’یہ میری زندگی ہے‘‘ جس کے بعد اس نے والد کو آخری بار ’بائے بائے پاپا‘ کہا، واقعے کے بعد پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور مقامی رضاکاروں نے چناب میں تلاش کا آپریشن شروع کردیا، تاہم تاحال لڑکی کا سراغ نہیں مل سکا۔
21-year-old Payal Devi allegedly jumped into the Chenab River from Shiva Dal Bridge in Doda, Jammu & Kashmir. She reportedly told her father, “This is my own life,” before the call ended. Police, SDRF, and volunteers launched a search. pic.twitter.com/kCfSMsyFn7
— HINT News (@9415st) September 6, 2026
واقعہ ہفتے کے روز تقریباً 2 بجے پریمنگر کے قریب شیوا دل پل پر پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں پائل کو مبینہ طور پر دریا میں جانے سے قبل الوداع کہتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کے اس انتہائی اقدام کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔
پائل کے والد کرشن لال نے بتایا کہ ان کی بیٹی اس روز ایک مقامی میلے میں گئی تھی اور بعد میں فون کرکے طبیعت خراب ہونے اور ڈاکٹر سے ملنے کا بتایا، ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے پر وہ واپس روانہ ہوئی، والد کے مطابق بعد میں انہیں اس شخص کی کال موصول ہوئی جو پائل کے ساتھ تھا اور اس نے بتایا کہ وہ دریا کی طرف بھاگ گئی ہے۔
مزید پڑھیں:ترکیہ کے معروف اداکار پراسرارطورپرچل بسے
والد نے بیٹی سے فون پر بات کرتے ہوئے بار بار پوچھا کہ کیا کسی نے اسے کچھ کہا یا اس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، تاہم ان کے مطابق پائل نے کہا کہ یہ اس کی اپنی زندگی ہے اور اس کا دل اسے یہی راستہ اختیار کرنے کا کہہ رہا ہے، اس کے بعد اس نے ’’بائے بائے پاپا‘‘ کہا اور فون بند ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے چناب میں تلاش شروع کردی، حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی واقعے پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، ایکس صارف افضل راج گرو نے پوسٹ میں واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ چناب کی تیز لہروں میں ایک نوجوان زندگی کے ضائع ہونے نے علاقے کو سوگوار کردیا ہے۔
دوسری جانب واقعے کی ویڈیو یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیرمصدقہ دعوؤں کو شیئر کرنے سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی جا رہی ہے، جبکہ اصل حالات جاننے کے لیے حکام کی تحقیقات اور ریسکیو آپریشن کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

