پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون مزید بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت کی ہے۔
یہ گفتگو گذشتہ ماہ استنبول میں اتحاد کی تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ہوئی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تین طرفہ دفاعی معاہدے پر اگست میں دستخط ہوئے تھے۔
یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی کے باعث خطے میں سمندری راستے بھی متاثر ہوئے۔
تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک نے استنبول میں ہونے والے پہلے اجلاس میں اتحاد کے لیے سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہو گا اور وہ تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر تعینات ہوں گے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اتوار کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے استنبول میں مکہ دفاعی اتحاد کی تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد کا جائزہ لیا اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
استنبول اجلاس میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا تھا، جس میں دفاعی صنعت میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی و پیداوار بھی شامل ہے۔
ترکی نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل میں دیگر ممالک کو بھی اتحاد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے الگ سے اپنے ترک ہم منصب حکان فیدان سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور استنبول میں مکہ معاہدے کے تحت تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور مکہ دفاعی اتحاد کے تحت تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

