’یہ ہماری زندگیوں سے کھیل رہے ہیں‘: ریسرچر نے اے آئی کا شعبہ ہی چھوڑ دیا

398334 221290286


اوپن اے آئی چھوڑ کر اینتھروپک میں شمولیت اختیار کرنے والے مصنوعی ذہانت کے ایک محقق نے اب اس شعبے سے ہی کنارہ کشی کا فیصلہ کیا ہے۔

27 سالہ جیکب کوکسن کا کہنا ہے کہ دونوں امریکی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت والے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کرنے کی دوڑ میں ’ہماری زندگیوں سے کھیل رہی ہیں‘۔

کوکسن نے گذشتہ تین برس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی پری ٹریننگ پر کام کیا ہے۔ انہوں نے ابتدا میں اوپن اے آئی میں کام کیا اور پھر رواں برس اس کی حریف کمپنی اینتھروپک میں شامل ہوئے، جسے وہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ محتاط کمپنی سمجھتے تھے۔

پری ٹریننگ وہ مرحلہ ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بڑی مقدار میں ڈیٹا جذب کرتے ہیں۔

کوکسن نے منگل کو کہا ’دونوں کمپنیاں ذمہ داری سے کام نہیں کر رہیں۔ وہ خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلیجنس تک پہنچنے کی دوڑ میں سیدھا آگے بڑھ رہی ہیں اور ہماری زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ’مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے لوگ سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ رواں دہائی کے اختتام تک یہ ٹیکنالوجی ہم سب کو مار سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ کوئی مارکیٹنگ اسٹنٹ نہیں۔‘

سپر انٹیلیجنس سے مراد وہ نظریاتی مرحلہ ہے جب مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں انسانی ذہانت سے بھی آگے نکل جائیں۔

اینتھروپک کے سیفٹی ایگزیکٹیو ایون ہیوبنگر نے بھی ایکس پر کوکسن کے مؤقف کی تائید کی اور کہا ’ہم واقعی سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کو مار سکتی ہے!‘ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ ایک دہائی کے دوران ایسا ہونے کا خطرہ ان کے اندازے کے مطابق 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

ہیوبنگر نے کہا اینتھروپک ’اپنی پوری کوشش کر رہی ہے‘، تاہم ابھی تک اس کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں کہ انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جانے والا مصنوعی ذہانت کا نظام اپنے تخلیق کاروں کے احکامات کی پابندی کرے۔

ان کے مطابق موجودہ ماڈلز میں ایسا ہونے کا خطرہ ’کم‘ ہے۔

کوکسن کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اینتھروپک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے قبل موسم گرما کے دوران ٹیسٹنگ کے مرحلے میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی جانب سے غیر مجاز ہیکنگ کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

دونوں کمپنیوں نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نام نہاد ’ریکَرِسیو سیلف امپروومنٹ‘ یعنی خود کو مسلسل بہتر بنانے کا وہ مرحلہ قریب آ رہا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے نظام بہت کم انسانی مداخلت کے ساتھ بنیادی طور پر خود اگلی نسل کے مصنوعی ذہانت کے نظام کو ڈیزائن اور تربیت دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

کوکسن کا کہنا ہے کہ اینتھروپک کی کوششیں حقیقی ہیں، تاہم ان کے خیال میں حکومت کی مداخلت یا مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو باہمی طور پر مربوط انداز میں کم کیے بغیر کوئی بھی کمپنی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام کو ذمہ داری سے تیار نہیں کر سکتی جو انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے۔

انہوں نے کہا ’اینتھروپک میں اس معاملے کی سنگینی کو اچھی طرح سمجھا جاتا ہے لیکن وہ وہاں سب سے پہلے پہنچنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

’ان کا خیال ہے کہ کوئی اور ذمہ داری سے کام نہیں کرے گا، اس لیے انہیں خود یہ کام کرنا ہوگا، چاہے اس میں خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔‘

فروری میں اینتھروپک نے اپنے سیفٹی چارٹر سے وہ عہد ختم کر دیا تھا جس کے تحت خطرات پر قابو پانے میں ناکامی کی صورت میں اپنے ماڈلز کی تیاری روکنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

کمپنی کا مؤقف تھا کہ اگر وہ یک طرفہ طور پر اپنا کام روک دیتی ہے تو اس کے مقابلے میں کم محتاط حریف کمپنیاں صنعت پر غالب آ جائیں گی، جس سے مجموعی طور پر مصنوعی ذہانت کا شعبہ مزید غیر محفوظ ہو جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جولائی کے اختتام پر ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ ایک ہزار سے زیادہ ملازمین نے، جن میں اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹیو ڈاریو اموڈی بھی شامل تھے، واشنگٹن پر زور دیا تھا کہ وہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام کی ترقی کی رفتار کو باہمی طور پر مربوط انداز میں کم کرنے کے لیے اقدامات کی حمایت کرے۔

اوپن اے آئی نے اگست میں اپنے جدید ترین ماڈلز کی تربیت دو ہفتوں کے لیے روک دی تھی، جس کے بعد مزید سخت حفاظتی اقدامات کے تحت اسے دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

اتوار کو اوپن اے آئی کے چیف سائنٹسٹ جاکوب پاچوکی نے ’انتہائی احتیاط‘ پر زور دیا۔

انہوں نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ’مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تعاون دنیا بھر کی حکومتوں کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔‘

امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو وفاقی قانون کے تحت ریگولیٹ نہیں کیا جاتا۔

ستمبر میں سینیٹر برنی سینڈرز اور ڈیموکریٹک نمائندے گریگ کاسار نے ایک بل پیش کیا جس میں وفاقی ریگولیٹر کے قیام تک مصنوعی ذہانت کی ترقی معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ