نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے منگل کو ایک لاکھ ۷۰ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل اندرونی ریکارڈ جاری کیا، جس سے انکشاف ہوا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد حکام نے گراؤنڈ زیرو کے ارد گرد ہوا کے معیار اور حفاظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔ حملوں کی ۲۵ ویں برسی سے چند روز قبل جاری ہونے والی ان دستاویزات پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا: "لوگ اس لیے بیمار ہوئے کیونکہ ان لیڈران نے، جن پر وہ بھروسہ کرتے تھے، جھوٹ بولا اور انہیں بتایا کہ وہ زہریلی ہوا میں سانس لینے کے لیے محفوظ ہیں۔” کامیڈین اور فرسٹ ریسپونڈرز کے حامی جان اسٹیورٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ریکارڈز کے مطابق حملوں کے بعد لوئر مین ہیٹن کی دھول میں ایسبیسٹس کی مقدار خطرناک حد سے تجاوز کر گئی تھی، جبکہ ۲۰۱۱ء کے آڈٹ میں برسوں بعد بھی بینزین اور ایسبیسٹس کی آلودگی میں اضافہ پایا گیا۔ یہ ریکارڈ ایک سرکاری دفتر میں ۶۸ ڈبوں میں چھپا کر رکھے گئے تھے۔ اس اجرا سے "۹/۱۱ ہیلتھ واچ” تنظیم کا مقدمہ حل ہوا اور یہ متاثرین کے لیے نئے معاوضے کے دعووں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ممدانی نے کہا کہ ۱۱ ستمبر سے جڑی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد حملوں میں براہِ راست ہلاک ہونے والوں سے زیادہ ہے۔ شہر کا تحقیقاتی محکمہ اب اس معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔

