حماس کے ۷ اکتوبر ۲۳ء حملے سے ۱۰ دن قبل یو اے ای نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا: رپورٹ

sk 9926 d


اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حماس حملے سے تقریباً ۱۰ دن قبل نیتن یاہو کو ۴۵ منٹ کی فون کال میں براہِ راست خبردار کیا تھا کہ حماس لیڈر یحییٰ سنوار ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ صحافیوں شلومو ایلدار اور روتھ یووال کی کتاب "Kidnapped: 843 Days of Abandonment” کے مطابق نیتن یاہو نے اس اطلاع پر پرسکون ردعمل دیا اور اسرائیل کی تیاری کا یقین دلایا، مگر مبینہ طور پر یہ اطلاع سیکوریٹی اداروں کے سربراہان تک نہیں پہنچائی۔ اُس وقت کے شن بیت سربراہ رونین بار اور فوجی سربراہ ہرزی ہلیوی نے کہا کہ انہیں اس وارننگ کا علم نہیں تھا۔
رپورٹ میں مصری انٹیلی جنس اور یحییٰ سنوار کے ایک پیغام کا بھی ذکر ہے جس میں "بڑے سرپرائز” جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے دعوے کو "مکمل جھوٹ” قرار دیتے ہوئے تردید کی، جبکہ یو اے ای نے براہِ راست تصدیق یا تردید سے گریز کیا۔ انکشاف کے بعد سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور گادی آئزن کوٹ سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے نیتن یاہو کو ۷ اکتوبر کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔ حملے میں ۱۲۰۰ افراد ہلاک اور ۲۵۱ یرغمال بنائے گئے تھے، جس کے بعد اسرائیلی کارروائی میں غزہ میں ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ