برطانیہ کا فلسطینیوں کی حمایت میں ہر ممکن اقدام کا اعلان
اسرائیل کو دو ریاستی حل کے حوالے سے صرف اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، برطانوی وزیر اعظم
لندن: برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کی مدد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا اعلان کردیا۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو دو ریاستی حل کے حوالے سے صرف اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جب کہ فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کرنے اور انہیں دھمکانے کے خلاف برطانیہ اپنا مؤقف برقرار رکھے گا۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برطانیہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کے معاملے پر عالمی سطح پر قیادت کررہا ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکالا جارہا ہے اور انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں برطانیہ متاثرہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے غزہ میں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد کا بھی ذکر کیا۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے سے متعلق 30 لائسنس پہلے ہی معطل کیے جاچکے ہیں جب کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور تباہی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسپتالوں اور شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہاں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
ایڈ ملی بینڈ نے غزہ کے حوالے سے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ غزہ کے شہریوں کی مدد جاری رکھے گا۔

