تہران میں مسلسل حملے، خامنہ ای ہلاک — امریکا کا آئی آر جی سی ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

images 8 12


تہران / واشنگٹن —
ایرانی دارالحکومت تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری رہا۔ دھماکوں کی آوازیں سنتے ہی تہران کے شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور "اللہ اکبر” کے نعرے لگائے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے باضابطہ بیان میں تصدیق کی کہ ایران میں ایک ہزار سے زائد فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور آئی آر جی سی ایروسپیس فورسز کا ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی بیلسٹک میزائل سائٹس اور ایرانی بحریہ کے جہازوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اسرائیلی مشترکہ حملوں میں ہلاک ہو گئے، جن کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد اور پوتا بھی جاں بحق ہوئے۔ ایران نے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔  (The National)
آئی آر جی سی کمانڈر محمد پاک پور اور سیکیورٹی مشیر علی شمخانی بھی ان حملوں میں ہلاک ہوئے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف "تباہ کن جوابی کارروائی” کا عزم ظاہر کیا۔  (Al Jazeera)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تین امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے تمام اہداف حاصل کرنے تک آپریشن جاری رکھے گا۔  (NPR)
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران نے بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے اور وہ ایرانی قیادت سے گفتگو پر رضامند ہیں۔  (CNBC)
ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی متعدد لہریں بھیجی ہیں۔  (Al Jazeera) خلیج فارس میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ