واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ آئندہ دو سے تین دنوں میں طے پاسکتا ہے۔ نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور ایران نے کم از کم ایک ہفتے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں روکنے پر اتفاق کرلیا ہے، اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔
ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں جو کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی مذاکرات کار تمام شرائط ماننے کے لیے تیار ہیں اور تہران کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے کہ اسرائیل حملے روکے تو ایران بھی جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے۔
ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ خطے کے پانچ ممالک نے انہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کیا گیا تو اسرائیل خود کو اکیلا پاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں امریکہ کو آخری لمحے میں اطلاع دی گئی تھی۔
اسرائیلی چینل ۱۲ سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا فوری جواب نہ دینے کی گزارش کی تھی۔ امریکی معاونین کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے تحفظ کے لیے اسرائیلی ردعمل کو چند روز کے لیے مؤخر کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

