صنعاء (بین الاقوامی ڈیسک) — یمن میں حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی کے نتیجے میں ایک ہی دن میں 1400 سے زائد خاندان بے گھر ہو گئے۔ سرکاری خبر رساں ادارے "سبا” کے مطابق تعز، الحدیدہ اور لحج میں ستمبر کے آغاز سے اب تک بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد 6145 تک جا پہنچی ہے۔
حکومت کے زیرِ انتظام "بے گھر افراد کے کیمپوں کے انتظام کے لیے ایگزیکٹو یونٹ” کے مطابق 8 ستمبر کو تعز، الحدیدہ اور لحج کے صوبوں میں 1367 خاندان بے گھر ہوئے۔ ادارے نے اس بے دخلی کی وجہ جاری فوجی کشیدگی اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو قرار دیا۔
فیلڈ ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کے اندراج، ان کے مقامات کی تصدیق اور انسانی ضروریات کے جائزے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی حکام، امدادی تنظیموں اور شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی بھی کی جا رہی ہے۔ یونٹ نے عالمی امدادی اداروں اور عطیہ دہندگان سے اپیل کی کہ وہ پناہ گاہ، خوراک، پانی اور صحت کی سہولیات کی بڑھتی ضروریات کے پیشِ نظر اپنی امدادی کارروائیوں میں اضافہ کریں، اور مزید بے دخلیوں کے خدشے سے بھی خبردار کیا۔
واضح رہے کہ یہ بے دخلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ہفتوں کے دوران تعز، الجوف اور البیضا سمیت متعدد محاذوں پر لڑائی میں شدت آئی ہے، جبکہ حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی جاری ہیں۔ بدھ کے روز تعز، البیضا، الضالع اور الحدیدہ میں جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ حکومت نواز افواج نے باب المندب آبنائے کے قریب اسٹریٹجک ساحلی شہر مخا میں مزید نفری روانہ کی۔
یمن مارچ 2015ء سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور کئی دیگر صوبوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔

