کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
سیاست کی کٹھن راہوں میں جب بھی کردار، وفاداری اور اصول پسندی کی تاریخ لکھی جائے گی، محترمہ بیگم کلثوم نواز کا نام اس فہرست کے سرفہرست ستونوں کے طور پر چمکے گا کیونکہ وہ محض ایک سیاسی شخصیت کی شریکِ حیات نہیں تھیں بلکہ مشکل ترین اور تاریک ترین دور میں جمہوریت کا استعارہ بن کر ابھریں اور ان کی پوری زندگی عزم، ثابت قدمی اور خاموش مگر پُر اثر جدوجہد کا ایک ایسا باب ہے جو پاکستانی سیاسی تاریخ سے کبھی محو نہیں کیا جا سکتا۔ محترمہ بیگم کلثوم نواز 29 مارچ 1950ء کو لاہور میں ایک معزز کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئیں، جن کے والد کا نام حفیظ بٹ تھا اور وہ برصغیر کے مشہورِ زمانہ پہلوان گاما پہلوان کی نواسی تھیں جو خاندانی روایات، شجاعت اور اعلیٰ اقدار کی امین تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اور اس کے بعد معروف تعلیمی ادارے فورمن کرسچن کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جو ان کی علمی اور فکری بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھی کیونکہ ان کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں روایات کا پاس اور خودداری بنیادی اصول تھے۔ اگرچہ وہ طویل عرصے تک عملی سیاست سے الگ رہ کر ایک گھریلو خاتون اور ماں کی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں لیکن جب بھی ملک پر آمریت کا سایہ پڑا یا ان کے خاندان پر کڑے وقت آئے، وہ ڈھال بن کر سامنے آئیں اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور تاریخ ساز امتحان 1999ء میں شروع ہوا۔ بارہ اکتوبر 1999ء کو جب پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر میاں محمد نواز شریف کو گرفتار کر لیا اور ملک پر مارشل لا نافذ کر دیا، تو سیاست کے میدان میں سناٹا چھا گیا تھا اور ایسے خوفناک ماحول میں بیگم کلثوم نواز نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہوں نے گھر کی دہلیز سے نکل کر آمریت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور مسلم لیگ ن کی باگ ڈور سنبھال کر کارکنوں کو متحرک کیا اور آمرانہ طاقتوں کو للکارا۔ وہ سڑکوں پر نکلیں، جلسے کیے اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر جمہوریت کی بحالی کے لیے ڈٹی رہیں حالانکہ حکومت نے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، ان کی کار کو کرین کے ذریعے اٹھایا گیا اور انہیں نظر بند کیا گیا لیکن ان کے پائے استقامت میں ذرا برابر لغزش نہیں آئی کیونکہ انہیں پاکستان کی سیاست میں آمریت کے خلاف آہنی دیوار کہا جاتا ہے۔ ان کی عملی انتخابی سیاست کا آغاز ان کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا جب نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر انہیں میدان میں اتارا گیا اور ستمبر 2017ء میں لاہور کے حلقہ این اے 120 پر قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہوا جو میاں نواز شریف کی نااہلی کے باعث خالی ہوا تھا۔ اس کٹھن معرکے میں جب وہ خود کینسر کے علاج کے سلسلے میں لندن میں تھیں اور خود انتخابی مہم میں شریک نہیں ہو سکتیں، تب ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم کی قیادت کی اور اس کے باوجود بیگم کلثوم نواز نے پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار کو شکست دی اور بھاری ووٹ لے کر شاندار فتح حاصل کی جو ان کی پہلی اور آخری انتخابی میدان میں کامیابی تھی جو ان کی اور ان کے خاندان کے ساتھ عوام کی غیر مشروط محبت کی مظہر تھی۔ ان کی زندگی کا دردناک ترین باب وہ تھا جب وہ بیماری کے بستر پر تھیں اور ان پر اور ان کے خاندان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے کیونکہ ستمبر 2018ء میں جب وہ کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف لندن کے ہارلے اسٹریٹ ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھیں، اس وقت پاکستان میں ان کے شوہر میاں محمد نواز شریف اور بیٹی مریم نواز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے احتساب عدالت نے سزائیں سنا کر اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ جیل کی تنہائی اور کڑی آزمائش کے اس عالم میں جب بیگم کلثوم نواز کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہوئی تو میاں نواز شریف نے جیل حکام کے سامنے بارہا التجا کی کہ انہیں فون پر ان کی علیل بیوی سے بات کرنے کی اجازت دی جائے مگر انہیں بات کرنے کی اجازت نا دی گئی اور بالآخر 11 ستمبر 2018ء کو جب ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی تو اس خبر نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اس وقت میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کے لیے وہ لمحہ قیامت خیز تھا جب انہیں جیل کے بند کمرے میں بیگم کلثوم نواز کی رحلت کی خبر دی گئی کیونکہ وہ صدمہ الفاظ میں بیان سے باہر تھا جہاں عدالتی کٹہرے، جیل کے آہنی دروازے اور پیروں میں ہتھکڑیاں موجود تھیں اور اس ظالمانہ ماحول میں ایک شوہر اور بیٹی کو ان کی محبوب ترین شریکِ حیات اور ماں کے آخری دیدار کے لیے پیرول پر رہائی ملی۔ جہاں ایک طرف یہ غم کا پہاڑ تھا تو دوسری طرف جیل واپسی کے پروانے تھے اور بیگم کلثوم نواز کی میت جب لاہور لائی گئی تو لاکھوں کا مجمع ان کے جنازے میں شریک ہوا جو اس بات کا گواہ تھا کہ قوم اپنے محسنوں کو جانتی ہے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور آج جب ہر سال 11 ستمبر کو بیگم کلثوم نواز کی برسی کا دن آتا ہے تو دل بوجھل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ایک ایسی باوقار خاتون تھیں جنہوں نے اقتدار کے عیش و آرام کو ٹھکرا کر اصولوں کی خاطر صعوبتیں جھیلنا پسند کیا اور ان کی رحلت کا صدمہ جتنا بڑا تھا، ان کی زندگی کی کمائی اس سے کہیں زیادہ تابناک ہے کیونکہ آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن سیاست کی اس کہکشاں میں بیگم کلثوم نواز کا نام ہمیشہ کے لیے ایک درخشاں ترین ستارے کے طور پر جگمگائے گا۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

