سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیوں کے معاملے پر شدید اختلاف

un 2 d


نیویارک،
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے درمیان ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی قانونی حیثیت پر جمعرات کو شدید اختلاف سامنے آیا۔ روس اور چین نے 2015ء کے جوہری معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کوششوں کو قانونی طور پر چیلنج کر دیا۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب روس نے 1737 پابندیوں کی کمیٹی سے متعلق مقررہ بریفنگ روکنے کی کوشش کی۔ ماسکو کا مؤقف تھا کہ قرارداد 2231 کی مدت 18 اکتوبر 2025ء کو ختم ہو چکی ہے اور اسی روز ایرانی جوہری معاملہ سلامتی کونسل کے فعال ایجنڈے سے بھی ہٹایا جا چکا ہے، لہٰذا 1737 کمیٹی، جو روس کے بقول 2015ء میں ہی ختم ہو چکی تھی، کے کام جاری رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کو پابندیوں کی کمیٹی سے متعلق 90 روزہ رپورٹ پیش کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ چینی نمائندے نے خبردار کیا کہ اختلافات نظرانداز کر کے پابندیاں زبردستی بحال کرنے کی کوششیں کونسل میں دراڑیں مزید گہری کریں گی اور سیاسی حل کو مشکل بنا دیں گی۔ دوسری جانب مغربی اراکین نے دونوں ممالک کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے بعد پابندیاں قانونی طور پر بحال ہو چکی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ