وہ جاسوس جس نے ’ویاگرا‘ کے لیے اپنے ملک سے غداری کی

398360 1705938686


1981 میں تہران کی ایک گرم خزاں کی شام دو جاسوس ایک چھوٹے سے سفید ٹائلوں والے حمام میں بیٹھے ووڈکا پی رہے تھے۔ ان میں سے ایک، ایان میک کریڈی، برطانوی تھا جبکہ دوسرا ولادی میر کوزیچکن، روسی خفیہ ادارے کے جی بی کا میجر تھا۔ اس کا قد چھ فٹ چار انچ سے بھی زیادہ تھا اور جسم اتنا چوڑا تھا کہ جس بان سے بنی کپڑوں والی ٹوکری پر وہ بیٹھا تھا، وہ چرچرا رہی تھی۔

نلکوں سے ٹھنڈا پانی باتھ ٹب اور واش بیسن میں گر رہا تھا جبکہ ایک ریڈیو کی آواز ایرانی جاسوسی آلات کو ان کی گفتگو سننے سے روکنے کے لیے چلائی گئی تھی۔ اگر دونوں کی بات چیت سن لی جاتی تو انہیں گرفتاری، تشدد اور ممکنہ طور پر سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

روسی افسر پہلے ہی کے جی بی سے غداری کی پیشکش کر چکا تھا اور اس کے پاس ایک ایسا راز تھا، جو انتہائی اہم ثابت ہو سکتا تھا۔ بظاہر سوویت حمایت یافتہ کمیونسٹ ایران میں اقتدار پر قبضہ کرنے اور ریڈ (سویت) فوج کو ملک میں بلانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس صورت میں ماسکو کو ایران کے تیل کے ذخائر اور خلیج عرب کی بندرگاہوں تک رسائی مل سکتی تھی۔

کوزیچکن نے بدلے میں اپنی خواہش بھی بتا دی۔ اسے یقین تھا کہ مغربی دوا اس بیماری کا علاج کر سکتی ہے، جو اس کی ازدواجی زندگی تباہ کر رہی تھی، یعنی جنسی کمزوری۔

بین میک انٹائر کی نئی شاندار کتاب Redwood: The Untold Story of the Cold War’s Most Extraordinary Spy  کا آغاز اسی منظر سے ہوتا ہے۔

یہ منظر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ تاریخ صرف بڑی حکمت عملیوں، نظریات اور طاقتور ریاستوں کے فیصلوں سے بنتی ہے۔

میک انٹائر مجھے بتاتے ہیں: ’مجھے اس کے بارے میں پہلی بار 10 سال پہلے بتایا گیا تھا اور مجھے یقین نہیں آیا تھا۔ مجھے یہ کہانی بہت پسند ہے۔ ایک شخص کا انتہائی نجی اور خفیہ مسئلہ تاریخ کا رخ بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔‘

کوزیچکن کی کمزوری کی جڑیں اس کی ناخوشگوار ازدواجی زندگی سے کہیں زیادہ گہری تھیں۔ وہ 1947 میں ماسکو میں پیدا ہوا اور اس کی پرورش آندرے کوزیچکن کے بیٹے کے طور پر ہوئی، جو ایک تشدد پسند، شرابی اور تلخ مزاج کے جی بی افسر تھے۔

22 سال کی عمر میں اسے معلوم ہوا کہ آندرے اس کے حقیقی والد نہیں تھے۔ اس کے اصل والد جارجی لارکن تھے، جو آئرش نسل سے تعلق رکھنے والے سول انجینیئر تھے اور ولادی میر سے ملاقات سے پہلے ہی سائبیریا میں انتقال کر گئے تھے۔

اس انکشاف نے اس کی شناخت کے احساس کو شدید دھچکا پہنچایا لیکن اس انکشاف نے اس کے اندر اپنی شناخت بدلنے یا اپنی زندگی کو ایک نئے انداز میں بنانے کا امکان پیدا کیا۔

اس نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور گیلینا کوکوسووا سے شادی کی۔ گیلینا ایک چھوٹے قد کی، خفیہ طور پر مذہبی نوجوان خاتون تھیں جن سے وہ بے حد محبت کرتا تھا۔

یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کے جی بی میں شامل ہوا اور بالآخر اسے ایران بھیج دیا گیا، جہاں اسلامی انقلاب شاہ کا تختہ الٹ کر آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم کر چکا تھا۔

ایران تشدد، سازشوں اور جاسوسی کا مرکز بن چکا تھا۔ اسلام پسند، قوم پرست اور مارکسسٹ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار تھے جبکہ ایران عراق کے ساتھ جنگ بھی لڑ رہا تھا۔

کوزیچکن سفارتی عہدے کی آڑ میں نائب قونصل کے طور پر کام کرتا تھا، لیکن اس کی اصل ذمہ داریوں میں ایران کی کمیونسٹ پارٹی ’تودہ‘ کے ساتھ رابطہ بھی شامل تھا۔

کمیونسٹ سیاسی جماعت تودہ (Tudeh) کو سوویت یونین سے پیسہ اور ہدایات ملتی تھیں اور اس نے مسلح افواج تک پھیلا ہوا ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

سوویت یونین پہلے ہی ہمسایہ ملک افغانستان پر قابض تھا، اس لیے مغربی حکومتوں کو خدشہ تھا کہ تہران میں کمیونسٹ بغاوت سوویت افواج کو خلیج تک لے آئے گی اور بدترین صورت حال میں دونوں بڑی طاقتوں کو جوہری تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

میک انٹائر کہتے ہیں: ’ہر لحاظ سے یہ ایک حقیقی خطرہ تھا۔ ایک حقیقی خوف۔‘

جب کوزیچکن نے برطانوی حکام سے رابطہ کیا تو وہ سوویت نظام کی بدعنوانی اور ایران کی سیاست میں کے جی بی کی مداخلت سے بیزار ہو چکا تھا۔

تاہم میک انٹائر اسے کسی بے داغ نظریاتی مخالف کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ اس کے محرکات سیاسی اور نفسیاتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جسمانی نوعیت کے بھی تھے۔

وہ بہت زیادہ شراب پینے لگا تھا، اسے گیلینا کو کھونے کا خوف تھا اور اس کے ذہن میں یہ تقریباً پختہ یقین پیدا ہو چکا تھا کہ مغربی ڈاکٹروں کے پاس ایسی دوا ہے جو سوویت طب اسے فراہم نہیں کر سکتی۔

اسے لگتا تھا کہ اگر ایم آئی سکس اس کی جنسی صلاحیت بحال کر دے تو شاید اس کی ازدواجی زندگی بھی بچ جائے۔

برطانویوں سے اس کا پہلا رابطہ بھی خاصا الجھا ہوا تھا۔ کوزیچکن برطانوی سفارت خانے میں داخل ہوا اور سفارت کار نکولس بیرنگٹن سے کہا: ’میں کے جی بی کا افسر ہوں۔ میں برطانیہ فرار ہونا چاہتا ہوں۔‘

اس نے بیرنگٹن کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ کے جی بی کو غلط فہمی تھی کہ ہمیشہ شاندار لباس پہننے والا یہ سفارت کار تہران میں ایم آئی سکس کا نمائندہ ضرور ہوگا، لیکن بیرنگٹن جاسوس نہیں تھا۔

اس پیشکش کو اس کے بجائے میک کریڈی تک پہنچایا گیا، جو ایک نوجوان انٹیلی جنس افسر تھا اور سفارتی عہدے کی آڑ میں کام کر رہا تھا۔

اب اسے یہ جاننا تھا کہ یہ روسی افسر واقعی سچ بول رہا ہے، کے جی بی نے اسے برطانویوں کو پھانسنے کے لیے بھیجا ہے یا یہ ایرانی سکیورٹی اداروں کا بچھایا ہوا جال ہے۔

ایم آئی سکس نے کوزیچکن کو اس کے غیر معمولی قد کی وجہ سے خفیہ نام ’ریڈ ووڈ‘ دیا۔ میک کریڈی نے اسے ایک لینڈ روور کے پچھلے حصے میں کمبل کے نیچے چھپا کر برطانوی سفارتی کمپاؤنڈ تک پہنچایا، جہاں یہ حمام ان دونوں کی عارضی محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔

ایم آئی سکس نے اسے کچھ گولیاں فراہم کیں، جو ویاگرا متعارف ہونے سے پہلے کے دور میں دراصل صرف وٹامن کی گولیاں تھیں اور ایک پرانا منوکس کیمرا دیا۔ کوزیچکن خفیہ ملاقاتوں کے دوران کھینچی گئی فلم سگریٹ کے پیکٹوں میں رکھ کر واپس کرتا تھا۔

ہر ملاقات میں کے جی بی یا ایران کے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والے سکیورٹی اداروں کی جانب سے پکڑے جانے کا خطرہ موجود تھا۔

میک انٹائر کہتے ہیں: ’میک کریڈی ایک غیر معمولی شخصیت ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ اسے جاننے لگے ہیں، لیکن پھر آپ کو یقین نہیں رہتا کہ آپ واقعی اسے جانتے بھی ہیں یا نہیں۔ واضح طور پر یہ آپریشن اس کی زندگی کا سب سے اہم حصہ تھا اور کوزیچکن کے ساتھ اس کا تعلق اس کی زندگی کا سب سے اہم تعلق تھا۔ اسے جن خطرات کا سامنا تھا وہ انتہائی خوفناک تھے۔ اگر وہ پکڑا جاتا۔۔۔ داؤ بہت اونچا تھا۔‘

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ’ریڈ ووڈ‘ جاسوسوں کو بھرتی کرنے کے عمل کی ایک بنیادی حقیقت سامنے لاتی ہے یعنی جاسوسوں کو انسانی ضروریات کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے، جو ہمیشہ پیسے، نظریے، دباؤ اور انا کی ان معروف چار اقسام میں آسانی سے فٹ نہیں ہوتیں۔

کوزیچکن ایک ایسے نظام کو چیلنج کرنا چاہتا تھا جس سے وہ نفرت کرنے لگا تھا، لیکن ساتھ ہی وہ اس خاتون کے ساتھ اپنی شادی بھی بچانا چاہتا تھا جس سے وہ محبت کرتا تھا۔ اس کی بہادری اس کی شرمندگی، تنہائی اور خوف سے الگ نہیں تھی۔

اس نے کے جی بی کے اہلکاروں، خفیہ رابطوں، سوویت کارروائیوں اور تودہ کے زیرزمین نیٹ ورک کے بارے میں معلومات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ یہ معلومات غیر معمولی اہمیت کی حامل تھیں، لیکن ان کے ساتھ ایک مزید سنگین سوال بھی پیدا ہو گیا یعنی آخر ان معلومات کو استعمال کون کرے گا اور کس مقصد کے لیے؟

جیسے جیسے یہ آپریشن اپنے خطرناک ترین مرحلے کی طرف بڑھتا ہے، میک انٹائر جاسوسی کی مہارت کی ایک دلچسپ داستان کو اخلاقی سوال میں بدل دیتے ہیں۔ انجام بتانا کہانی کا مزہ خراب کر دے گا، لیکن اس آپریشن کی میراث آج بھی شدید اختلاف کا موضوع ہے۔

میک انٹائر کہتے ہیں: ’اس کہانی کے بارے میں اب بھی کچھ ابہام موجود ہے۔ کچھ لوگ، خاص طور پر سخت گیر سوچ رکھنے والے، کہتے ہیں کہ یہ بالکل درست اقدام تھا۔ دوسرے کہتے ہیں کہ اس کی قیمت بہت زیادہ تھی، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایم آئی سکس کی اپنی مرضی سے کی گئی کارروائی نہیں تھی۔ بالآخر یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی خفیہ ادارے نے میک انٹائر کی تحقیق میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

وہ کہتے ہیں: ’راز داری کے بارے میں ایم آئی سکس کا رویہ بدل رہا ہے۔ میرے خیال میں آج کل یہ کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ لیکن کوئی بھی اگلا ٹاملنسن نہیں بننا چاہتا۔‘

یہ سابق ایم آئی سکس افسر رچرڈ ٹاملنسن کا حوالہ تھا، جن کے انکشافات کے نتیجے میں ان کے خلاف مقدمہ چلا اور کئی سال تک قانونی تنازع جاری رہا۔

یہ بات ’ریڈ ووڈ‘ کے ایک انتہائی پریشان کن پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ انٹیلی جنس آپریشن اس وقت ختم نہیں ہوتے جب راز حاصل کر لیا جائے یا کیس باضابطہ طور پر بند کر دیا جائے۔ معلومات کی اپنی ایک زندگی ہوتی ہے۔ وہ دوسرے ہاتھوں میں پہنچتی ہیں اور ایسے فیصلوں سے ٹکرا جاتی ہیں، جن کا اندازہ ان معلومات کے اصل ذریعے نے کبھی نہیں لگایا ہوتا۔

ایک حکمت عملی کی کامیابی آگے چل کر بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے اور دشمن کا دشمن اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہی ابہام 1980 کی دہائی کی اس کہانی کو آج کے دور سے حیرت انگیز حد تک جوڑ دیتا ہے۔ جاسوسی کا نظام سیٹلائٹس، سائبر جنگ اور بڑے پیمانے پر مواصلات کی نگرانی کے باعث بہت بدل چکا ہے لیکن میک انٹائر کا خیال ہے کہ انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس، جسے ’HUMINT‘ کہا جاتا ہے، آج پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں: ’حقیقت یہ ہے کہ جاسوسی آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ سائبر سب کچھ سنبھال لے گا اور اب جاسوسی کا مطلب بنیادی طور پر مواصلات کی نگرانی رہ گیا ہے، لیکن انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ سگنلز انٹیلی جنس کو آسانی سے غلط سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔ ہم دوبارہ ایک زیادہ روایتی اور پرانے انداز کی طرف جا رہے ہیں۔‘

سگنلز انٹیلی جنس یہ معلوم کر سکتی ہے کہ کوئی ادارہ کیا کہہ رہا ہے، لیکن ایک انسانی ذریعہ یہ بتا سکتا ہے کہ کیا اس ادارے کے رہنما واقعی اس بات پر یقین بھی رکھتے ہیں، کیا ماتحت صرف وہی جواب دے رہے ہیں جو ان سے سننے کی توقع کی جاتی ہے یا پورا انٹیلی جنس نظام خود اپنے آپ سے جھوٹ بول رہا ہے۔

میک انٹائر روسی صدر ولادی میر پوتن کے یوکرین پر حملے کو اس کی جدید ترین مثال سمجھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سب سے بڑی انٹیلی جنس غلطی پوتن کا یوکرین پر حملہ کرنا تھا۔ ایف ایس بی نے انہیں بتایا تھا کہ وہ تقریباً بغیر کسی مزاحمت کے وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔‘

روس نے ’غیر قانونی جاسوس‘ کے طریقہ کار کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اس طریقے میں ایک انٹیلی جنس افسر سفارتی تحفظ کے بغیر عام شہری کی جعلی شناخت کے ساتھ کسی دوسرے ملک میں رہتا ہے۔

میک انٹائر کہتے ہیں: ’ہمارے درمیان جاسوس موجود ہیں اور ہر جگہ ایسے غیر قانونی جاسوس موجود ہیں۔ یہ سرد جنگ کے دور کی حکمت عملی سے براہ راست نکلا ہوا طریقہ ہے۔ مغرب میں سوویت یونین کے دور کے مقابلے میں آج زیادہ غیر قانونی جاسوس سرگرم ہیں۔‘

میک انٹائر کی بہترین کتابوں کی طرح ریڈ ووڈ بھی جاسوسی کے نظام اور اس کی مشینری سے زیادہ ان لوگوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے جو اس نظام کے اندر پھنس جاتے ہیں۔

ریاستیں خفیہ نام، نظریات اور خفیہ نیٹ ورک بنا سکتی ہیں، لیکن راز ہمیشہ کمزور اور پیچیدہ انسان ہی اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

جاسوسی کا جدید ترین نظام بھی آخرکار محبت، انا، خوف یا ذلت جیسے انسانی جذبات کا شکار ہو سکتا ہے اور تاریخ کا رخ تہران کے ایک حمام میں سرگوشی میں کیے گئے ایک معاہدے سے بدل سکتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ