چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پیر کو کہا کہ سپریم کورٹ کا اصلاحاتی ایجنڈا پانچ بنیادی ستونوں ٹیکنالوجی، انصاف تک رسائی، شفافیت، قانونی و ریگولیٹری فریم ورک اور ادارہ جاتی احتساب پر استوار ہے جبکہ اصلاحات کا حتمی مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے۔
سپریم کورٹ نے آج نئے عدالتی سال کا آغاز کر دیا، اس حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ڈیجیٹل نظام انصاف کے لیے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور سائبر سکیورٹی ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ کے لیے یکساں ای فائلنگ فریم ورک کی تجویز بھی قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکساں ای فائلنگ نظام سے وکلا اور سائلین کو مقدمات دائر کرنے کا آسان طریقہ کار میسر آئے گا جبکہ صوبائی بار کونسلز کو قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری میں شامل کیا گیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
چیف جسٹس کے مطابق نئے مقدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور بارکوڈنگ پر بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں عوامی سہولت مرکز اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کا نظام مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور رجسٹری میں عوامی سہولت مرکز نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
عدالتی اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عدالت سے منسلک ثالثی فریقین کو منصفانہ، بروقت اور مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے جبکہ مقدمات کی بروقت سماعت مؤثر کیس مینیجمنٹ کے لیے ضروری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2015 سے 2026 تک سزائے موت کی 613 اپیلیں نمٹائیں جبکہ قبل از گرفتاری ضمانت کی 2,972 اور بعد از گرفتاری ضمانت کی 2,926 درخواستوں کے فیصلے کیے گئے۔
ان کے مطابق کرایہ داری سے متعلق زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر 133 رہ گئی جبکہ سروس معاملات میں 4,302 مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔
انہوں نے عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب کو بھی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت اصلاحاتی ایجنڈے کے بنیادی ستونوں میں شامل ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق چین اور ترکی کی عدالتوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد جاری ہے اور سپریم کورٹ کے چار تکنیکی افسران ترکی جبکہ پانچ افسران چین بھیجے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا ’اصلاحات کا حتمی مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے۔‘

