انڈیا کے وزیر داخلہ نے حکمراں ہندو قوم پرست جماعت کے زیرِ انتظام ریاستوں میں متنازع یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو مزید وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے اقلیتی مسلمانوں میں تشویش بڑھنے کا امکان ہے۔
انڈیا کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی مشترکہ فوجداری قانون کے تحت آتی ہے، تاہم شادی، طلاق اور وراثت جیسے ذاتی معاملات کے قوانین مختلف برادریوں اور مذاہب کی روایات کے مطابق الگ الگ ہیں۔
ان متنوع قوانین کی جگہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) متعارف کرانا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ایک دیرینہ ہدف رہا ہے۔
اب تک کم از کم چار ریاستیں یو سی سی نافذ کر چکی ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کہا: ’ہم نے کئی ریاستوں میں یو سی سی نافذ کیا ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ 2029 تک بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے زیرِ انتظام تمام 21 ریاستوں میں اسے نافذ کر دیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یکساں سول کوڈ کی مہم نے خصوصاً مسلم شہریوں کے درمیان تشویش پیدا کر رکھی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان کی مذہبی آزادیوں پر زد پڑے گی۔
حامیوں کا مؤقف ہے کہ یو سی سی مسلمانوں کی خواتین کو دیگر خواتین کے برابر حقوق فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت تعددِ ازدواج کا خاتمہ، بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے جائیداد میں مساوی وراثتی حقوق اور طلاق کے معاملات کا سول عدالتوں کے ذریعے طے ہونا شامل ہے۔
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا میں ہندو اکثریت ہے۔ تاہم یہاں تقریباً 22 کروڑ مسلمان بھی آباد ہیں، جس کے باعث انڈیا دنیا کی تیسری بڑی مسلم آبادی کا حامل ملک ہے۔
انڈیا کے اگلے عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں۔ نریندر مودی نے 2024 کے انتخابات میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی تھی، تاہم انہیں اتحادی حکومت بنانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں، بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم رہنماؤں (جیسے اسد الدین اویسی) نے اس بل پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا پرسنل لا قرآن و سنت سے ماخوذ ہے، جس میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ یکساں سول کوڈ کا نفاذ ان کے مطابق براہِ راست ان کے مذہبی عقائد میں مداخلت ہے۔
اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ انڈین آئین کا آرٹیکل 25 شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے، جبکہ یکساں سول کوڈ اس بنیادی حق کو مجروح کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، اسلامی قانون کے تحت بیٹی کا وراثت میں حصہ مخصوص ہے، جبکہ یو سی سی کے تحت اس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جو شرعی احکامات کے متصادم ہیں۔ مزید برآں، کثیر الازدواجی (ایک سے زائد شادیاں) پر مکمل پابندی اور ‘لیو ان ریلیشنز’ کی لازمی رجسٹریشن جیسے قوانین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

