واشنگٹن — امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے لیے ایک اہم جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق یہ لائسنس 21 اگست 2026 تک مؤثر رہے گا اور اس عرصے میں ایرانی تیل کی امریکا میں درآمد بھی قانونی طور پر ممکن ہوگی۔
تاہم اس لائسنس میں کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ ایرانی تیل کی شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین کو ترسیل مکمل طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔
یہ اقدام ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی اور اقتصادی کشیدگی کے پس منظر میں ایک غیر معمولی پیشرفت سمجھا جا رہا ہے اور عالمی توانائی منڈیوں میں اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

