پاکستان نے باب المندب کی صورت حال کو ’سنگین تشویش‘ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستان ایک طویل عرصے سے یہ موقف بیان کرتا آیا ہے کہ ہم کچھ استحکام دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے اور خطے سے باہر بھی سب کے مفاد میں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’باب المندب کی صورت حال غیر معمولی ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائی سنگین تشویش کا معاملہ ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’ہمیں پورے خطے میں امن لانے کی ضرورت ہے اور ہمیں ان کی سرگرمیوں کو بھی روکنا ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت بنیادی طور پر جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن اور استحکام لانے کے گرد گھومتی رہی۔
پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ سال طے پانے والے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا یہ معاہدہ گذشتہ سال طے پایا تھا اور ’چونکہ یہ ایک آپریشنل معاملہ ہے، اس لیے میں اس سے آگے کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک سال 1979 کے اواخر سے تعاون کر رہے ہیں اور گذشتہ سال تعلقات کو باضابطہ شکل دی گئی۔ آپریشنل تعاون موجود ہے اور دونوں ممالک باہمی تکمیلی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر اس سے زیادہ تبصرہ ممکن نہیں ہوگا۔‘
مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ کے اگلے اقدامات کے بارے میں سجاد حیدر خان نے کہا کہ ’جیسا کہ استنبول میں بھی اعلان کیا گیا تھا، اجلاس منعقد ہو چکا ہے اور مزید اجلاس متحدہ عرب امارات اور پاکستان، دونوں میں ہوں گے، جبکہ مزید مشاورتی طریقہ کار بھی جاری رہیں گے۔‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی معاہدہ
وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سات اگست کو طے پانے والے دفاعی معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان سات اگست کو پاکستان-سعودی عرب سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا، جو ایک باہمی دفاعی معاہدہ ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے جو اس کا بنیادی مقصد ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’سکیورٹی اور دفاع کے شعبے میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ہماری شراکت داری اچھی طرح تسلیم شدہ ہے اور یہ کل سے شروع نہیں ہوئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’کافی عرصے سے ہمارے درمیان یہ طویل تعلق موجود ہے۔ یہ معاہدہ ان تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے جاری اور طویل عرصے سے موجود باہمی تعاون کے کئی پہلوؤں کو باضابطہ شکل دیتا ہے اور مزید مضبوط کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ موجودہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے، جس میں تربیت اور استعداد کار میں اضافہ، بہترین طریقہ کار کا تبادلہ، مختلف ٹیکنالوجیز اور تحقیق کے شعبوں میں باہمی تجربات سے سیکھنا، اور علاقائی سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے والی کسی بھی کارروائی کی اجتماعی طور پر روک تھام شامل ہے۔‘
سجاد حیدر خان نے واضح کیا کہ ’یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر کسی نئے بلاک کی تشکیل ہے۔‘
مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ کے سیکریٹری جنرل کی تعیناتی
مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ کے سیکریٹری جنرل کی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’عہدے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک باصلاحیت شخص ہوگا۔ جو شخص اپنا کام جانتا ہو، وہ بنیادی طور پر اس عہدے کے لیے موزوں ترین ہوگا جس کا مشاورت کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔‘

