
( ویب ڈیسک )عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے چلی کی معیشت اور سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھا دیا، جس کے بعد حکومت نے پٹرول میں ایتھنول شامل کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چلی کی وزارت توانائی نے E10 ایتھنول بلینڈ کی تجویز تیار کی ہے، جس کے تحت پٹرول میں 10 فیصد ایتھنول شامل کیا جائے گا، حکام کے مطابق اس اقدام سے ایندھن کی فراہمی کی لاگت میں سالانہ تقریباً 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی لائی جاسکتی ہے۔
چلی لاطینی امریکا کے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور 2025 میں اس نے روزانہ تقریباً 1 لاکھ 81 ہزار بیرل خام تیل درآمد کیا تھا،عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث ملک کی معیشت اور حکومتی مالیات پر دباؤ بڑھا ہے۔
چلی میں اس وقت ایتھنول کی آمیزش لازمی نہیں جبکہ ملک پٹرول میں آکٹین بڑھانے والے MTBE نامی ایڈیٹو کا استعمال کرنے والے خطے کے چند ممالک میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز گر گئیں
مجوزہ تبدیلی کے تحت سرکاری آئل کمپنی ENAP کو ریفائننگ، ٹرمینل اور اسٹوریج انفراسٹرکچر میں تقریباً 10.8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی،وزارت کے اندرونی میمو کے مطابق اس تبدیلی کو مرحلہ وار نافذ کیا جاسکتا ہے۔
چلی میں ایتھنول کی مقامی پیداوار محدود ہے، اس لیے ملک کو ایتھنول کی درآمد پر انحصار کرنا پڑے گا، رپورٹ کے مطابق چلی اس وقت زیادہ تر ایتھنول ارجنٹائن اور بولیویا سے حاصل کرتا ہے۔
گرینز کونسل کی بریفنگ کے مطابق چلی میں 10 فیصد بلکہ مستقبل میں 15 فیصد ایتھنول آمیزش بھی 2030 تک حاصل کی جاسکتی ہے۔
حکومت نے مئی میں 2030 تک ایندھن کے ذرائع کو متنوع بنانے اور کاربن اخراج کم کرنے کے لیے روڈ میپ بھی جاری کیا تھا، جس میں ایندھن کی آمیزش کو ممکنہ راستے کے طور پر شامل کیا ۔

