جموں کے نروال میں ایک سرکاری نوٹس کے بعد روہنگیا خاندان اپنے گھر توڑنے کومجبور ہیں۔ کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے اور بزرگوں اور بیمار لوگوں کے لیے مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔

سری نگر: 45 سالہ محمد عالم کے لیے اپنا گھر توڑنا ایک ایسے سوال سے روبرو ہونا ہے، جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے-’اب ہم جائیں تو جائیں کہاں؟‘
عالم کا خاندان جموں میں رہنے والے ان سینکڑوں روہنگیا پناہ گزین خاندانوں میں شامل ہے، جنہوں نے اپنے گھروں کو توڑنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ان کے مکان مالکان کو اپنے پلاٹوں سے رہائشی اور تجارتی ڈھانچے ہٹانے کے لیے سرکاری نوٹس موصول ہوئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ نروال میں خاندانوں نے منگل (15 ستمبر) کو اپنے عارضی گھروں کو توڑنا شروع کیا تھا۔ یہ سلسلہ بدھ اور جمعرات کو بھی جاری رہا۔
سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے ویڈیو اور تصویروں میں روہنگیا پناہ گزینوں کو اپنی جھونپڑیاں توڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ اپنے کپڑے اور دیگر ضروری اشیا سمیٹ رہے تھے۔ کچھ خاندان جو سامان ساتھ لے جا سکتے تھے، وہاں سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے، لیکن وہ جائیں گے کہاں، یہ ابھی صاف نہیں ہے۔
برما کالونی میں رہنے والے روہنگیا پناہ گزین محمد صابر نے صحافیوں کو بتایا کہ اس بستی میں 70 سے 80 خاندان رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، خاندانوں کو تین دن کے اندر جگہ خالی کرنے کو کہا گیا تھا۔
صابر نے کہا،’پلاٹ کے مالکان نے ہمیں تین دن کے اندر جگہ خالی کرنے کو کہا۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں۔‘ انہوں نے بتایا کہ بدھ (16 ستمبر) نوٹس کی مدت کا آخری دن تھا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ 17 ستمبر کو بھی گھر توڑنے کا کام جاری رہا۔
صابر کے مطابق، بستی میں کئی بزرگ اور بیمار لوگ ہیں۔ ان کے خاندانوں کے سامنے چھت نہ رہنے کی صورت میں بڑی مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا،’یہاں ایسے لوگ ہیں جو دواؤں کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اب ان کے پاس کام کرنے کا بھی کوئی راستہ نہیں ہے۔ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگا۔ ‘
انہوں نے کہا،’اپنا ملک چھوڑنے کے بعد ہمارے پاس جموں آنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ ‘
صابر نے کہا،’ہمارے بہت سے لوگوں کو مار دیا گیا اور ہمیں وہاں سےبھاگنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ ہم جموں کو فواً نہیں چھوڑ سکتے، کیونکہ ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔ ‘
ان علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ یہاں رہنا پہلے ہی آسان نہیں تھا۔ پانی کی باقاعدہ سپلائی نہیں ہوتی تھی اور بجلی بھی اکثر منقطع رہتی تھی۔ صابر نے کہا،’جو کچھ مل جاتا تھا، اسی کے سہارے ہم کسی طرح گزر بسر کرتے تھے۔‘
جموں انتظامیہ کی جانب سے زمین مالکان کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد جگہ خالی کرانے کا عمل شروع ہوا۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ نوٹس اس لیے جاری کیے گئے کیونکہ زمین زرعی استعمال کے لیے مختص تھی۔
افسر نے کہا،’پلاٹ کے مالکان زرعی زمین کو رہائشی استعمال کے لیے کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر نہیں دے سکتے اور نہ ہی اسے سب لیٹ کر سکتے ہیں۔ ‘
جموں کے ضلع کلکٹر نے جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ، 1996 کی دفعہ 133-اے کے تحت یہ نوٹس جاری کیے ہیں۔ نوٹس میں زرعی زمین کے مبینہ غیر مجاز استعمال یا غیر زرعی مقصد کے لیے اس کے استعمال میں تبدیلی کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر میں روہنگیا بستیوں کی نئے سرے سے ہورہی سرکاری جانچ کے درمیان ہوئی ہے۔
گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی نے نروال کی ایک روہنگیا بستی کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی اور اس سے متعلق مسائل کے زمینی جائزے کا حصہ تھا۔ اس کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جج پرکاش پربھاکر نولکر کر رہے ہیں۔ کمیٹی 26 مئی 2026 کو تشکیل دی گئی تھی۔
کمیٹی کو آبادیاتی تبدیلیوں کی جانچ کرنے اور انتظامی و قانونی اقدامات تجویز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اگست میں کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں 7,656 روہنگیا ہیں۔ ان میں سے 6,737 جموں خطے کے 10 اضلاع میں جبکہ 919 کشمیر گھاٹی کے 10 اضلاع میں بتائے گئے ہیں۔
اسی اعداد و شمار میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 504 بنگلہ دیشی شہریوں کی بھی جانکاری دی گئی ہے۔ ان میں 46 جموں خطے اور 458 کشمیر گھاٹی میں ہیں۔ حکام نے غیر ملکی شہریوں سے متعلق معاملوں کی تفصیلات بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی ہیں۔
جموں میں ایسے 101 معاملے درج کیے گئے، جن میں 179 مرد اور 21 خواتین شامل تھیں۔ کشمیر میں 16 معاملے درج کیے گئے، جن میں 41 خواتین اور چار مرد شامل تھے۔
جموں و کشمیر میں روہنگیا بستیاں کئی برسوں سے سیاسی اور سکیورٹی سے متعلق بحث کا مرکز رہی ہیں۔ خصوصی طور پر ان علاقوں میں اس مسئلے پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، جنہیں سرحد سے نزدیکی کی وجہ سے تزویراتی طور پر حساس سمجھا جاتا ہے۔
جموں کا برما مارکیٹ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اس خطے میں روہنگیا پناہ گزینوں کی ایک بڑی بستی رہا ہے۔ بہت سے رہائشیوں کے لیے یہ وہ جگہ بھی ہے جہاں انہوں نے میانمار سے بھاگنے کے بعد دوبارہ اپنی زندگی شروع کی۔ زیادہ تر لوگ چھوٹے موٹے کام کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔ کچھ کباڑ جمع کرنے کا کام کرتے ہیں، جبکہ کچھ یومیہ اجرت پر مزدوری یا گھریلو کام کرتے ہیں۔ تاہم، جموں میں ان کی قانونی حیثیت اب بھی پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔
مارچ 2021 میں تقریباً 275 روہنگیاؤں کو، جن کے پاس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ نہیں تھے، ایم اے اسٹیڈیم میں تصدیقی مہم کے بعد ہیرا نگر کے ہولڈنگ سینٹر بھیج دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ، جموں انتظامیہ وہاں رہنے والے لوگوں کے یو این ایچ سی آر کے پناہ گزین کا درجہ رکھنے والے کارڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
ہیرا نگر کی اس سہولت کو 5 مارچ 2021 کو شہریت ایکٹ، 2019 کی دفعہ 2(بی) کے تحت مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کو رکھنے کے لیے ہولڈنگ سینٹر قرار دیا گیا تھا۔ حراست میں لیے گئے لوگ اب بھی وہاں ہیں۔
ان کی لگاتار حراست نے اس سوال کوبھی جنم دیا ہے کہ انہیں میانمار واپس بھیجا جا سکے گا یا نہیں۔ مرکزی حکومت میانمار کے حکام کے ساتھ اب تک ایسا کوئی سفارتی حل تلاش نہیں کر سکی ہے، جس سے ان کی واپسی ممکن ہو سکے۔
غیر ملکی شہریوں کے خلاف حالیہ کارروائی صرف روہنگیا بستیوں تک محدود نہیں ہے۔ 3 اگست کو حکام نے بنیہال میں سلہٹ ضلع سے تعلق رکھنے والے 21 بغیر دستاویز والے بنگلہ دیشی شہریوں کو اس وقت حراست میں لیا، جب وہ وادی کشمیر کی جانب جا رہے تھے۔
غور طلب ہے کہ اپریل 2022 میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نےہوم سکریٹری کو چھ ہفتے کے اندر میانمار اور بنگلہ دیش سے آئے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں تقریباً 13,700 غیر قانونی تارکین وطن رہتے ہیں۔
جعلی دستاویزوں کے مبینہ استعمال سے متعلق معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں کشتواڑ پولیس نے روہنگیا خاتون انوارہ بیگم، ایک مبینہ ’معاون‘ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ یہ معاملہ مبینہ طور پر فرضی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ سے متعلق تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مارچ 2017 میں بھی اسی طرح کی کارروائی کے دوران روہنگیا بستیوں سےفرضی ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ اور اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ برآمد کیے گئے تھے۔
تاہم، اب نروال میں اپنے گھر توڑنے والے خاندانوں کے لیے سب سے بڑی تشویش کہیں زیادہ بنیادی ہے۔ وہ اپنا جتنا سامان سمیٹ سکتے ہیں، سمیٹ رہے ہیں۔ جن گھروں کو انہوں نے بنایا تھا، انہیں اپنے ہاتھوں سے توڑ رہے ہیں۔ اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگلی رات وہ سوئیں گے کہاں ۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

