پٹرول ریلیف، کفایت شعاری، احسن اقدام

petrol relief1789418396 0


وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ملک بھر میں میں سادگی و کفایت شعاری اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔

اگلے روز اسلام آباد میں وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اہم اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی، ایندھن کے تحفظ، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ سب سے پہلے حکومت اور ملک کی اشرافیہ سے قربانی کا آغاز کیا جائے گا، معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کے لیے فیول سبسڈی کا آغاز ہو چکا ہے، موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی پٹرولیم بحران کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثر سے پاکستان کے محنت کش طبقے کو محفوظ رکھنے کے لیے تاریخی خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے۔

اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والے اہل شہریوں کو پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف ملے گا۔ اس سے محنت کشوں اور محدود آمدن والے خاندانوں کا سفری بوجھ کم ہوگا۔

ریلیف کی شفاف، مؤثر اور درست تقسیم یقینی بنانے کے لیے رجسٹریشن کا واضح اور یکساں نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام اہل شہری اس میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر رجسٹریشن مکمل مفت کردی گئی ہے۔

اب کسی ضرورت مند شہری اور اس کے حق کے درمیان میسج چارج، اضافی خرچ یا کوئی مالی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی۔ رجسٹریشن کے لیے REG لکھ کر سپیس دیں، شناختی کارڈ نمبر، سپیس، گاڑی کا پلیٹ نمبر، سپیس، صوبے کے نام کا پہلا انگریزی حرف ( مثلاً سندھ کے لیے S) سپیس اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ لکھ کر 9771 پر مفت میسج بھیجیں۔

اس اسکیم سے لاکھوں شہری مستفید ہو رہے ہیں۔ شفاف نظام کے تحت جنگ کی صورتحال سے قبل کی قیمت پر سستا پٹرول موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیاں چلانے والوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس کے ساتھ ساتھ کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں۔

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بچت کی شروعات عوام سے نہیں، خود حکومت سے ہوگی تاکہ سرکاری خرچ اور ایندھن بچا کر کم آمدن والے خاندانوں کو معاشی دباؤ سے محفوظ رکھا جاسکے۔ انھوں نے سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے لیے اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جسکے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہونگے، شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہونگے، شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کی جائے گی، ریسٹورنٹس، کیفے، فوڈ آؤٹ لیٹس رات11 بجے بند ہونگے تاہم ٹیک اوے ،ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ قرار دی گئی ہے، میڈیکل اسٹور، طبی مراکز، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس، بیکریز، تنور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم دیگر ضروری شعبے بھی پابندیوں سے مستثنیٰ ہونگے۔

سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں3 ماہ  کے لیے 50 فیصد کمی کردی گئی، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل گاڑیاں مستثنیٰ ہوں گی، ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، ایف بی آر، لازمی سروسز اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق گاڑیوں کو فیول کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، ترقیاتی منصوبوں پربھی یہ اقدام لاگو نہیں ہوگا۔

رواں مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کی کٹوتی ماہانہ بنیادوں پر کی جائے گی۔ سرکاری گاڑیوں سمیت ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی، آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی، تین ماہ کے لیے بیرونِ ملک سرکاری دوروں اور سفری اخراجات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے تاہم اسکالرشپس، تربیتی کورسز اور ادارہ جاتی معاہدوں کے تحت دورے پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔

ناگزیر غیرملکی دوروں کی صورت میں وزرا، مشیران، سرکاری حکام صرف اکانومی کلاس میں سفر کرینگے، سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ غیرملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی، حکومت کے فنڈز سے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی عائد کر دی گئی۔

ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں پر کیس ٹو کیس بنیاد پر غور ہوگا۔

استثنیٰ کی سفارش منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جائے گی، صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی اسی نوعیت کے اقدامات اپنانے پر غور کر سکتی ہیں۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے عملدرآمد رپورٹس حاصل کریگی، عدم تعمیل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کریگی، وزیراعظم کو ہفتہ وار پیشرفت رپورٹ پیش کی جائیگی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی اور ایندھن کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ اس اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس سے اجلاس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس اضافے کا لامحالہ اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے حتیٰ کہ امریکا بھی اس بحران سے متاثر ہوا ہے اور وہاں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان حالات میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کمزور اور متوسط طبقات کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کر کے قابل ستائش قدم اٹھایا ہے۔ گو حکومت کو مالی مسائل کا سامنا ہے اور ان مالی مسائل میں سے ہی حکومت نے متوسط اور غریب طبقے کو سبسڈائزڈ پٹرول دینے کا فیصلہ کر کے ثابت کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات میں جو سبسڈی دی گئی ہے، اس سے یقینی طور پر ملک کی ورکنگ کلاس کو سہولت ملے گی۔ موٹرسائیکل ورکنگ کلاس کی سواری سمجھی جاتی ہے بلکہ یہ انھی کی سواری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں موٹرسائیکلوں کی تعداد اڑھائی کروڑ کے قریب ہے۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے کتنے وسیع طبقے کو پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف رکشے اور چنگ چی لوڈر وغیرہ بھی ورکنگ کلاس کے لیے معاشی آمدن کا ذریعہ ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ کلاس کے لیے یہ سفری سہولت بھی ہے اور ٹرانسپورٹیشن کا زیادہ تر کام بھی چنگ چی لوڈرز اور رکشے سے لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر شہروں کے اندر سامان کی نقل وحمل کا سب سے قابل استعمال ذریعہ یہی ٹرانسپورٹ ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے آٹھ سو سی سی گاڑیوں تک کے لیے پٹرول کی سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے مڈل کلاس طبقے کو خاصا ریلیف ملے گا۔ چھوٹی گاڑیاں پاکستان کے مڈل کلاس طبقے کی سواری ہے۔ پورے پاکستان میں اگر مڈل کلاس طبقے کے افرادی حجم کو دیکھا جائے تو یہ سب سے بڑا طبقہ ہے۔ یوں اس طبقے کو بھی ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے ملکی اکانومی مستحکم رہے گی اور عوام کو سہولت ملے گی۔

جب سے موجودہ حکومت کو اقتدار ملا ہے، حکومت نے اپنے مالیاتی ڈسپلن کو بہتر رکھا ہے۔ اب بھی وزیراعظم کفایت شعاری اور سادگی مہم کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر ہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو سامنے رکھیں اور اس سے پیدا ہونیوالی مشکلات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان جیسی معیشت کے لیے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل کام ہے لیکن حکومت کی معاشی ٹیم نے موجودہ صورتحال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر بھی ماضی کے مقابلے میں بہت مستحکم ہیں۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی پاکستان اچھے مراسم رکھنے میں کامیاب ہے۔ جہاں تک سادگی مہم کا تعلق ہے تو اس میں ملک کی ٹاپ بیوروکریسی اور پارلیمنٹیرینز کو رہنما کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک کی کاروباری اشرافیہ بھی اگر اس معاملہ میں تعاون کرے تو عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ملک کی زرعی اشرافیہ بھی اس معاملے میں رہنما رول ادا کر سکتی ہے۔ اگر امراء کا طبقہ اس سادگی مہم کا ساتھ دے تو نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہو گی بلکہ غریب عوام کو بھی مسلسل ریلیف مل سکتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ