سی ایم ریکھا گپتا کو نوٹس، فوری تصدیق کے بعد نام شامل کرنے کی منظوری؛ کیا سب کے لیےایک جیسا عمل؟

rekha gupta


دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری کیا گیا، لیکن فوری طور پر ان کے دستاویزوں کی تصدیق کر کے ان کا نام حتمی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اس فوری کارروائی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عام رائے دہندگان کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔

rekha gupta
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی فائل فوٹو۔ (تصویر: پی ٹی آئی/کرما بھوٹیا)

نئی دہلی:دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا کو ایس آئی آرکے تحت نوٹس جاری کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں یہ ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے دستاویزجمع کرنے پڑےکہ وہ حقیقت میں قومی راجدھانی  کی ووٹر ہیں۔

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق نوکر شاہ اروند کیجریوال بھی ان متعدد رہنماؤں میں شامل ہیں، جن کے خلاف ایسے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

سنیچر (19 ستمبر) کو گپتا کے خلاف نوٹس جاری ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن کے حکام نے فوری طور پر وضاحت پیش  کی کہ ان کے دستاویزوں کی تصدیق کر لی گئی ہے اور دہلی کی حتمی ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل کرنے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس پورے واقعہ نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ بھی وہی طریقہ کار اپنایا، جو دہلی کے لاکھوں عام ووٹروں کے لیےلاگو کیا جا رہا ہے۔

انتخابی عہدیداروں کی فوری وضاحت سے مساوی برتاؤ پر سوال

فیکٹ چیکر اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نےسنیچر کو سب سے پہلے یہ بتایا کہ دہلی میں ایس آئی آر کے دوران وزیر اعلیٰ کے نام پر بھی ایک نوٹس جاری ہوتا دکھائی دیا ہے۔ اسی طرح کا نوٹس مسودہ ووٹر لسٹ میں درج 97.5 لاکھ ناموں میں سے تقریباً 33 لاکھ لوگوں کو جاری کیا گیا ہے۔

سال2025کے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے گپتا کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے میں، جس میں انہوں نے شالیمار باغ اسمبلی حلقہ سے انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی تھی، ان کا پتہ اس حلقہ کے اے پی بلاک علاقے کا درج ہے۔

اس علاقے میں نوٹس حاصل کرنے والے لوگوں کی فہرست کی جانچ کرنے پر پتہ چلتاہے کہ شالیمار باغ اسمبلی حلقہ کے پارٹ نمبر 123 میں رہنے والی 51 سالہ ریکھا گپتا کا نام بھی فہرست میں درج ہے۔ اس پارٹ میں اے پی بلاک کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ مبینہ طور پر انہیں اس لیے نشان زد کیا گیا ہے کہ ان کی عمر ان کے والدین میں سے ایک یا دونوں سے 15 سال سے کم کا فرق ظاہر کرتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ووٹر سرچ پورٹل پر اس اندراج سے متعلق ای پی آئی سی نمبر تلاش کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ منیش گپتا نامی ایک رشتہ دار کے نام کے ساتھ درج ہے۔ وزیر اعلیٰ گپتا کے شوہر کا نام منیش گپتا ہے۔ 19 جولائی 1974 کو پیدا ہونے والی وزیر اعلیٰ گپتا کی عمر دہلی میں ایس آئی آر شروع ہونے کے وقت 51 سال تھی۔

بعد میں سنیچر کو شالیمار باغ کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر(ای آر او)نے تصدیق کی کہ گپتا کو ان کے فارم میں دی گئی معلومات میں ’منطقی تضاد‘ پائے جانے کی وجہ سے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ان کے بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او)نے موقع پر جا کر جانچ کی۔ اس کے بعد 4 نومبر کو ان کے اسمبلی حلقہ کی حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کے لیے گپتا کے نام کو ’تصدیق کر کے محفوظ‘ کر لیا گیا۔

ای آر اونے کہا،’ کمیشن ایک شفاف، شراکتی اور جامع نظرِ ثانی کے عمل کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے محروم نہ رہے اور کسی بھی نااہل شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ ہو۔ ‘

ایس آئی آر کے تحت جن لوگوں کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے، انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے یا تو سابقہ ووٹر لسٹوں سے ’میپ‘ نہ ہونے کی وجہ سے نشان زد کیا جاتا ہے، جنہیں حوالہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، یا پھر ان کے ریکارڈ میں مبینہ ’منطقی تضادات‘ پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے دستاویزجمع کرنے پڑتے ہیں۔ اگر حکام دستاویزوں سے مطمئن ہوتے ہیں تو ان کا نام حتمی ووٹر لسٹ میں برقرار رکھا جاتا ہے۔

زبیر نے سنیچرکی رات کہا کہ ای آر اوکی جانب سے پیش کی گئی وضاحت کا خیرمقدم ہے، لیکن انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ وزیر اعلیٰ کو نوٹس کب جاری کیا گیا، ان کے دستاویزوں کی تصدیق کب ہوئی اور ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل کرنے کی منظوری کب دی گئی۔

انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پوچھا،’کیا اس معاملے کو عجلت میں نمٹا دیا گیا؟‘ انہوں نے کہا کہ تقریباً 33 لاکھ ’عام ووٹروں کو ایس آئی آر کے تحت نوٹس ملے ہیں… کیا اب ان سب معاملوں میں بھی اسی طرح کی تیزی، تصدیقی عمل اور طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا؟ ‘

اروند کیجریوال، کپل سبل سمیت کئی لوگوں کے نام بھی نشان زد

آلٹ نیوز کے شریک بانی نے سنیچر کو یہ بھی بتایا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ان کے کئی رشتہ داروں کو بھی 2002 کی ووٹر لسٹ سے میپ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹس دیا گیا ہے۔

نئی دہلی اسمبلی حلقہ کے پارٹ نمبر 51 میں ووٹر کے طور پر درج کیجریوال، ان کی اہلیہ سنیتا، ان کی ماں گیتا دیوی، ان کے والد گووند رام اور ان کے بیٹے پلکت کے نام کے سامنے بھی مبینہ طور پر 2002 کی ووٹر لسٹ سے میپ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹس جاری کیے جانے کی جانکاری درج ہے۔

گپتا کے معاملے کے برعکس، کیجریوال کے اسمبلی حلقہ کےای آر اونے ایک بیان میں کہا کہ ان کے دستاویزوں کی تصدیق ابھی ہونا باقی ہے اور حتمی ووٹر لسٹ میں ان کے نام شامل کیے جانے کی ابھی منظوری نہیں ملی ہے۔

دہلی کے تین بار کے وزیر اعلیٰ رہ چکے کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے سنیچر کی شام کہا، ’کیا اس ملک میں سب کچھ صرف پرم بھگوان کو خوش رکھنے کے لیے ہو رہا ہے؟‘

ٹرانسپیرنسی ایکٹوسٹ انجلی بھاردواج نے سنیچر کو کہا کہ گپتا اور کیجریوال کو جاری کیے گئے نوٹس ’دکھاتے ہیں کہ ایس آئی آر کتنا دکھاوا ہے۔‘ انہوں نے ایکس پر لکھا،’وہ انتخابات لڑنے کے اہل تھے، لیکن آج اس بات پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ ووٹر بننے کے اہل ہیں یا نہیں۔‘

انہوں نے سوال کیا،’کیا یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن دہلی ایس آئی آر کے تحت جن ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، ان کی فہرست شائع نہیں کر رہا تھا؟‘ انہوں نے اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ دہلی کی مسودہ ووٹر لسٹ 31 اگست کو شائع کر دی گئی تھی، لیکن جن لوگوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، ان کی فہرست 18 دن بعد، یعنی اس جمعہ کو ہی سامنے آئی۔

راجدھانی میں ایک اور جگہ  کا ذکر کرتے ہوئے زبیر نے بتایا کہ آزاد راجیہ سبھا رکن اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل کے نام پر بھی نوٹس درج ہے۔ نئی دہلی سیٹ کے پارٹ نمبر 40 کے لیے جاری کیے گئے نوٹس کی فہرست میں سبل کا نام بھی 2002 کی ووٹر لسٹ سے میپ نہ ہونے کی وجہ سے نشان زد کیا گیا ہے۔

جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، ان میں دہلی سب سے اوپر ہے۔ یہاں ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ میں درج تقریباً 33 فیصد نام مسودہ ووٹر لسٹ میں جگہ نہیں بنا سکے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ