کراچی میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 میں مجموعی طور پر 10 ہزار 964 امیدواروں نے شرکت کی جن میں 2 ہزار 554 طلباء اور 8 ہزار 410 طالبات شامل تھیں۔ امتحان کے بعد امیدواروں نے شدید گرمی، ناکافی پنکھوں اور رپورٹنگ کے مقررہ وقت کے حوالے سے شکایت کے انبار لگا دیے بعض امیدواروں نے طبی امداد، پانی اور ریفریشمنٹ کی فراہمی پر انتظامیہ کو سراہا۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ 2026 میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد جبکہ سندھ میں 34 ہزار 235 امیدواروں نے شرکت کی جن میں 21 ہزار 382 طالبات اور 12 ہزار 853 طلباء شامل تھے۔
کراچی میں مجموعی طور پر 10 ہزار 964 امیدواروں نے شرکت کی جس میں 2 ہزار 554 طلباء اور 8 ہزار 410 طالبات شامل تھیں طالبات کی تعداد تقریباً تین گنا زیادہ رہی۔ ایم ڈی کیٹ کا تین گھنٹے دورانیے پر مشتمل امتحان صبح 10 بجے شروع ہوا جس میں امیدواروں نے 180 سوالات پر مشتمل پرچہ کیا۔
کراچی میں ایم کیٹ امتحان کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے، جبکہ دونوں مراکز کے اطراف سیکیورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے۔ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس اہلکار بھی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں کردار ادا کر رہے تھے۔
کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی میں تقریباً 6 ہزار جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں 4 ہزار 964 امیدواروں کے لیے انتظامات کیے گئے تھے۔ رپورٹنگ کا وقت صبح ساڑھے 6 بجے مقرر ہونے کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے امیدواروں کو صبح سویرے گھروں سے روانہ ہونا پڑا۔
کچھ میدواروں نے کہا دو گھنٹے قبل گھر سے نکلنا پڑا، جبکہ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک اور تعمیراتی کام کے باعث سفر مزید مشکل ہوگیا۔یونیورسٹی روڈ پر جاری تعمیراتی کام کے باعث ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھ گیا جبکہ دھول مٹی سے ہوتے ہوئے طلبہ اپنے امتحانی مراکز پہنچے۔
امتحانی مرکز کے باہر والدین کی بڑی تعداد اپنے بچوں کے امتحان ختم ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ انتظامیہ کی جانب سے والدین کے لیے انتظار گاہ کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جبکہ ڈاؤ اوجھا کیمپس کے سامنے بھی والدین کے بیٹھنے کے لیے شادی ہال میں انتظام کیا گیا تھا۔ امیدواروں نے کہا اگر رپورٹنگ کا وقت کچھ دیر سے رکھا جاتا تو طلبہ کو سفر کے بعد امتحان سے قبل مختصر وقت میں ریویژن کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے امتحانی پنڈال میں بعض بلاکس میں پنکھے خراب ہونے یا مناسب ہوا نہ دینے کی شکایات سامنے آئیں۔ امیدواروں نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا شدید گرمی کے باعث ہاتھوں سے کاغذی پنکھے جھلتے رہےجبکہ کچھ امیدواروں کی طبیعت بھی بگڑ گئی ،طلبہ نے شکوہ کرتے کہا امتحان جیسے اہم مرحلے میں انہیں پرسکون ماحول اور مناسب سہولیات ملنی چاہئیں تھیں صدر سے آنے والی امیدوار کے مطابق گرمی کے باعث ہاتھوں میں پسینہ آ رہا تھا جس سے پرچہ حل کرتے ہوئے پین بھی پھسل رہا تھا۔
جب امتحان کے لیے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے تو کم از کم بنیادی سہولیات، خصوصاً مناسب پنکھوں اور ہوا کا انتظام، یقینی بنایا جانا چاہیےامتحان کے لیے ذہنی دباؤ پہلے ہی بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے امتحانی مرکز میں پہنچنے کے بعد کم از کم ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جہاں امیدوار سکون سے پرچہ حل کرسکیں۔
میڈیکل ٹیم کی جانب سے امیدواروں کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا، جبکہ ضرورت کے مطابق او آر ایس اور جوس بھی فراہم کیا گیا۔
ایم ڈی کیٹ کے پرچے کے حوالے سے بیشتر امیدواروں نے اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں نسبتاً بہتر قرار دیا۔ امیدواروں کے مطابق بائیولوجی کا حصہ نسبتاً آسان تھا، جبکہ فزکس کے سوالات بعض امیدواروں کو قدرے مشکل محسوس ہوئے۔ کچھ امیدواروں نے کیمسٹری کے سوالات کو بھی مشکل قرار دیا، تاہم مجموعی طور پر امیدواروں نے امید ظاہر کی کہ ان کی تیاری کے مطابق نتائج بہتر آئیں گے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے امتحانی مرکز کے انچارج انجینئر حفیظ تنیو نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا امتحانی پرچہ سخت سیکیورٹی کے تحت مرکز تک پہنچایا گیا۔ پرچہ لانے کے عمل کی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی اور امتحانی مرکز میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی گئی۔
انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر پرچے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کی۔ انتظامیہ کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے لیے سندھ کے مختلف شہروں سمیت آٹھ شہروں میں نو امتحانی مراکز قائم کیے گئے، جن میں کراچی، حیدرآباد، جامشورو، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور اسلام آباد شامل تھے۔ امیدواروں کیلئے میڈیکل یونٹس، ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بھی موجود تھیں، جبکہ پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے انتظامات کیے گئے۔
آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر آصف شیخ نے اپنے ویڈیو بیان میں امتحانی انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا اس سال بھی شفافیت برقرار رہی ہے۔

