پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت، سیاحت، سیاست کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پیر کی سہ پہر دو روزہ دورے پر تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل برقرار ہے اور واشنگٹن کی جانب سے فروری میں ایران پر حملے سے شروع ہونے والا تنازع کئی ماہ سے جاری ہے۔
اس کے بعد سے تہران نے آبنائے ہرمز پر سخت گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جو دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، جبکہ واشنگٹن اسلامی جمہوریہ ایران کی بندرگاہوں اور معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
تہران پہنچنے پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی۔
ارنا کے مطابق اسکندر مومنی نے اس موقع پر کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات سٹریٹجک اور گہرے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ معاہدوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سرحدی گزرگاہیں 24 گھنٹے فعال رہیں گی جبکہ کوہک کے مقام پر ایک نئی سرحدی گزرگاہ بھی کھولی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات کو کسی ایک مخصوص معاملے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تعلقات ہیں اور تمام شعبوں میں بہترین روابط موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طے پانے والے بعض اہم معاہدوں پر پہلے ہی عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جبکہ ’تجارت کے حجم کو 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانا ایران کا قلیل اور درمیانی مدت کا ہدف ہے، جسے ان شا اللہ حاصل کر لیا جائے گا۔‘
دوسری جانب محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی صدر نے ایران اور پاکستان کی وسیع صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے تجارت، توانائی، سیاحت اور مشترکہ سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
محسن نقوی نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان موجودہ تعلقات کو اعلیٰ سطح کا قرار دیتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا۔

