ایران میں اسکولوں کی گھنٹیاں پھر بج اٹھیں، مگر 277 طالب علم واپس نہ آئے
نئے تعلیمی سال کے آغاز تک 1272 متاثرہ اسکولوں کی بحالی مکمل کرلی گئی، حکام
ایران بھر میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا اسکولوں میں ایک بار پھر گھنٹیاں بج اٹھیں اور بچوں کی آوازیں گونجنے لگیں مگر جنگ کی تباہ کاریوں نے اس واپسی کو خوشی کے ساتھ گہرے غم میں بھی بدل دیا۔
نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب تہران کے ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول میں ہوئی جہاں صدر مسعود پزشکیان نے اسکول کی گھنٹی بجا کر تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ایران بھر میں تعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے۔ اسکول رینوویشن، ڈویلپمنٹ اینڈ ایکوپمنٹ آرگنائزیشن کے مطابق ملک میں 1288 اسکولوں کو نقصان پہنچا، جن میں 16 اسکول براہ راست حملوں کی زد میں آئے اور انہیں بڑے پیمانے پر تعمیر و بحالی کی ضرورت پڑی۔
حکام کے مطابق نئے تعلیمی سال کے آغاز تک 1272 متاثرہ اسکولوں کی بحالی مکمل کرلی گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ طلبہ کے لیے کھول دیے گئے۔
ایرانی وزیر تعلیم علیرضا کاظمی کے مطابق حالیہ دو جنگوں کے دوران 277 طلبہ اور 67 تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 178 طلبہ اور 25 تعلیمی ملازمین زخمی ہوئے۔
جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں نئے تعلیمی سال کی واپسی کا منظر سب سے زیادہ دردناک ہے۔ 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے وقت شجرہ طیبہ پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔
میناب کے اسکول میں اس بار بھی گھنٹی بجی، بچے یونیفارم پہن کر تعلیمی اداروں میں پہنچے، سڑکیں طلبہ سے آباد ہوئیں اور نئی کتابوں اور کاپیوں کے ساتھ تعلیمی سال شروع ہوگیا، لیکن کئی خاندانوں کے لیے اسکول کی خالی نشستیں ان بچوں کی یاد دلاتی رہیں جو دوبارہ کبھی کلاس روم میں نہیں آئیں گے۔
جنگ سے متاثرہ ایران میں اسکولوں کا دوبارہ کھلنا صرف تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی نہیں بلکہ ان خاندانوں اور بچوں کے لیے امید کی علامت بھی ہے جنہوں نے جنگ میں اپنے پیاروں کو کھویا۔
ایرانی تعلیمی اداروں کی بحالی کے ساتھ یہ عزم بھی سامنے آیا ہے کہ اسکول علم، شعور، تعلیم اور بچوں کے مستقبل کی حفاظت کے مراکز کے طور پر اپنا کردار جاری رکھیں گے، تاکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے باوجود نئی نسل کے خواب خاموش نہ ہوں۔

