سال 2025 کے ضلع سطح کے متواتر لیبر فورس سروے کے مطابق، ملک کے تقریباً 250 اضلاع میں 15 سے 29 سال کی عمر کے 25 فیصدی سے زیادہ نوجوان نہ روزگار میں ہیں، نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی طرح کی تربیت لے رہے ہیں۔ نوجوان خواتین میں یہ صورتحال اور بدتر ہے۔
نئی دہلی: 2025 میں پہلی بار کیے گئے ضلع سطح کے متواتر لیبر فورس سروے (پیریاڈک لیبر فورس سروے-پی ایل ایف ایس)سے پتہ چلا ہے کہ ملک کے تقریباً 250 اضلاع میں 15 سے 29 سال کی عمر کے 25 فیصدی سے زیادہ نوجوان نہ تو کسی پیداواری کام میں مصروف ہیں، نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی روزگار کے لیے کسی طرح کی تربیت لے رہے ہیں۔
وزارت شماریات نے جمعہ (18 ستمبر) کو اس سروے کے نتائج جاری کیے، جس کی بنیاد پر ٹائمز آف انڈیا نے ایک نیوز رپورٹ شائع کی ہے۔ سروے کے مطابق بہار، اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں کے تقریباً دو تہائی اضلاع میں نوجوان آبادی کا ایک چوتھائی حصہ نیٹ (این ای ای ٹی – ناٹ ان امپلائمنٹ، ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ)، یعنی نہ روزگار میں، نہ تعلیم میں اور نہ تربیت والے زمرے میں ہے۔
اسی طرح، آندھرا پردیش، اڑیسہ، آسام اور تلنگانہ جیسی ریاستوں کے تقریباً نصف اضلاع میں 25 فیصد نوجوان آبادی کونیٹ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
وزارت کی رپورٹ میں اہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تقریباً 600 اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔ کچھ معاملوں میں قریبی اضلاع کو ملا کر ایک ہی اکائی کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق، تقریباً 25 اضلاع میں نیٹ نوجوانوں کی حصہ داری 10 فیصد سے کم ہے۔ ان میں چھتیس گڑھ کے کبیر دھام، راج ناندگاؤں اور شمالی بستر کانکیر، ہماچل پردیش کا چمبہ، کیرالہ کا ایرناکولم اور مدھیہ پردیش کا منڈلا شامل ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اڑیسہ کے نبرنگ پور ضلع میں نیٹ نوجوانوں کی شرح سب سے کم 4.1 فیصد تھی۔
نیٹ میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں، جو کسی بھی تعلیمی ادارے میں نامزدنہیں ہیں اور لیبر فورس سے بھی پوری طرح باہر ہو گئے ہیں۔ خواتین کے معاملے میں اس کی وجوہات میں بلا معاوضہ گھریلو کام یا دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریاں نبھانا، یا مناسب کام دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ملازمت کی تلاش چھوڑ دینا شامل ہو سکتا ہے۔ کچھ معاملوں میں امتحان کی تیاری کررہے یا خالی وقت گزارنے والے لوگ بھی اس زمرے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سروے سے پتہ چلتاہے کہ سروے کیے گئے کل اضلاع میں سے تقریباً تین چوتھائی اضلاع میں نوجوان خواتین کی نیٹ شرح 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ بلا معاوضہ گھریلو کام اور سماج کی طرف سے خواتین پر ڈالی جانے والی ذمہ داریوں کے بوجھ کو اجاگر کرتا ہے۔
اس سے قبل، نیتی آیوگ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 8.7 کروڑ نوجوان ’نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ کام کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی طرح کی ٹریننگ لے رہے ہیں۔‘ ری امیجنگ اسکلنگ فار وکست بھارت@2047 نام کی یہ رپورٹ 2021 میں کیے گئے نیشنل سیمپل سروے کے 78ویں دور کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ بعد میں مرکزی حکومت نے وضاحت کی تھی کہ ان لوگوں کو ’مجموعی طور پر بے روزگار نہیں کہا جا سکتا۔‘
اس کے علاوہ، مارچ 2026 میں عظیم پریم جی یونیورسٹی کی’اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026‘رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 15 سے 25 سال کی عمر کے تقریباً 40 فیصد نوجوان بے روزگار تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ گریجویٹ نوجوانوں میں صرف تقریباً 7 فیصد ہی ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ والی نوکری حاصل پائے۔

