ڈبلیو ایچ او کا انکشاف: امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے 13 اور لبنان کا 1 طبی مرکز نشانہ بنا

IMG 20260306 WA2184


جنیوا / تہران — عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم کے دوران ایران میں صحت کے بنیادی ڈھانچے پر 13 اور لبنان میں ایک طبی مرکز پر حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ اعلان ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ 
ڈبلیو ایچ او کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ چار ایمبولینسیں بھی متاثر ہوئیں اور قریبی حملوں کے نتیجے میں ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کو جزوی نقصان پہنچا۔ 
ایرانی ریڈ کریسنٹ کے سربراہ کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں میں 3,090 گھر، 528 تجارتی مراکز، 13 طبی مراکز اور ریڈ کریسنٹ کے 9 مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ 
متاثرہ طبی مراکز میں خاتم ہسپتال، گاندھی ہسپتال اور مختلف بحالی و رفاہی مراکز شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ جب حملوں کے نتیجے میں ہسپتال کے ڈھانچے منہدم ہوئے تو کچھ مریض زخمی ہوئے، جبکہ ولی عصر برن ہسپتال مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو گیا۔ 
ایران میں ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد 1,332 تک پہنچ چکی ہے، اسرائیل میں کم از کم 11، 6 امریکی فوجی اور خلیجی ریاستوں میں 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہ واقعات یاددہانی کراتے ہیں کہ طبی مراکز کو تنازعات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت صحت کی سہولیات کو تحفظ حاصل ہے۔ 
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے، جنہیں اسرائیل نے "آپریشن روارنگ لائن” اور امریکہ نے "آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا۔ 

متعلقہ پوسٹ