واشنگٹن/تہران — 27 اپریل 2026
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں اور واشنگٹن میں ان تجاویز کو ٹھنڈے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ایران کی پیش کردہ تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح، ٹھوس اور قابلِ قبول مؤقف شامل نہیں ہے، جس کے باعث امریکی قیادت میں سنجیدہ تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستان کے ذریعے پہنچائی گئی تجاویز
رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ تجاویز پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں۔ ان تجاویز میں دو مرحلہ جاتی حکمتِ عملی شامل ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں عارضی جنگ بندی اور دوسرے مرحلے میں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی دی گئی ہے۔
تاہم تہران نے ایک اہم شرط بھی عائد کی ہے۔ ایران نے آبنائے ہُرمز کو کھلا رکھنے کو امریکی اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہُرمز سے دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور اس کی بندش عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی مؤقف اور آگے کی راہ
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر مکمل، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات کے بغیر کوئی بھی معاہدہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان خلیج ابھی تک کم نہیں ہوئی اور مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ثالثی کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں اپنی سفارتی اہمیت منوانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں بڑی طاقتیں کسی قابلِ قبول نقطے تک پہنچ پائیں گی۔

