مرز اور شی جن پنگ نے تعاون بڑھانے کا عزم کیا — جرمن چانسلر کا تاریخی چین دورہ

IMG 20260225 WA2511


بیجنگ،
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے علیحدہ علیحدہ اہم ملاقاتیں کیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ مرز کا مئی 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں اور اعلیٰ درآمدی محصولات نے عالمی اتحادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور مغربی ممالک کے رہنما بیجنگ کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ مرز اپنے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد لے کر آئے جس میں BMW، فوکس ویگن، مرسیڈیز بینز اور سیمنز کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔
باہمی شراکت داری کا پیغام
صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران کہا کہ چین اور جرمنی کو ایک دوسرے کے "قابلِ بھروسہ شراکت دار” اور "آزاد تجارت کے محافظ” بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جتنی زیادہ ہنگامہ خیز ہوتی جائے گی، اتنا ہی ضروری ہوگا کہ چین اور جرمنی اپنے تعلقات کو مضبوط کریں۔
چانسلر مرز نے صحافیوں سے گفتگو میں احتیاط کے ساتھ امید کا اظہار کیا: "ہم جانتے ہیں کہ کئی مسائل پر ہمارے درمیان اختلافات موجود ہیں، مگر ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بہت سے شعبوں میں تعاون ممکن ہے — اس کے لیے صبر اور سب سے بڑھ کر مکالمے کی ضرورت ہوگی۔”
یوکرین جنگ اور امن کی اپیل
مرز نے ملاقات میں یوکرین جنگ کو بھی زیرِ بحث لایا اور بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے جنگ ختم کروائے۔ انہوں نے کہا: "ہم جانتے ہیں کہ بیجنگ کے پیغامات ماسکو میں سنجیدگی سے لیے جاتے ہیں۔” صدر شی نے جواباً کہا کہ چین یوکرین بحران کا سیاسی حل چاہتا ہے اور مذاکرات کا راستہ ہی واحد راستہ ہے۔
ایئربس کا بڑا معاہدہ
اقتصادی محاذ پر ایک بڑا اعلان یہ سامنے آیا کہ چین یورپی ہوا بازی کمپنی ایئربس سے مزید 120 طیارے خریدے گا۔ مرز نے اسے دورے کی "کامیابی کی دلیل” قرار دیا۔ وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔
مغربی رہنماؤں کا بیجنگ کی طرف رجحان
مرز حالیہ مہینوں میں بیجنگ کا دورہ کرنے والے مغربی رہنماؤں کی ایک کڑی میں شامل ہو گئے جن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ماکروں اور کینیڈا کے مارک کارنی شامل ہیں — سبھی ٹرمپ کے تجارتی حملوں کے پیشِ نظر بیجنگ سے قربت تلاش کر رہے ہیں۔
جمعرات کو مرز ہانگ ژو کا دورہ کریں گے جہاں وہ چین کے معروف روبوٹکس ادارے Unitree کا معائنہ کریں گے۔ اس کے بعد وہ واشنگٹن کے اپنے تیسرے دورے کے لیے روانہ ہوں گے۔

متعلقہ پوسٹ