کراچی / اسلام آباد،
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد بدھ کو پاکستان پہنچ گیا اور کراچی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینیئر حکام کے ساتھ ابتدائی تیکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز کر دیا۔
سٹیٹ بینک کے ماہرین نے آئی ایم ایف وفد کو جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں تیکنیکی ڈیٹا شیئرنگ کی گئی جس میں زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، افراط زر کے رجحانات اور بینکنگ ریگولیشن پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
آئی ایم ایف وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ اس دوران 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے تیسرے جائزے کے مذاکرات کے ساتھ ساتھ 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) پروگرام کے دوسرے جائزے پر بھی مذاکرات ہوں گے۔ کامیابی کی صورت میں پاکستان کو آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔
سٹیٹ بینک حکام کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 سے 4.7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ہدف مقرر کیا ہے کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 30 جون تک 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں، جبکہ آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ آئندہ مالی سال میں مجموعی ذخائر 23.3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں پاکستان نے 41 کھرب 5 ارب روپے کا بنیادی فاضل (پرائمری سرپلس) ریکارڈ کیا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے منفی 0.6 فیصد پر رہنے کا تخمینہ ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج آئی ایم ایف کی اگلی قسط کے اجرا اور آنے والے مہینوں میں پاکستان کی معاشی پالیسی کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

