سادہ سے ڈیجیٹل دور تک، تین نسلوں کی عید میں کیا بدلاؤ آیا؟

393736 27140316


عید مسلمانوں کا اہم مذہبی تہوار ہے اور مختلف علاقوں میں لوگ اپنے رسم و رواج کے مطابق عید کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جاننے کی کوشش کی کہ گذشتہ دہائیوں میں عید منانے کے انداز میں کیا تبدیلی آئی۔

اس مقصد کے لیے ایک خاندان سے بات کی گئی جس میں دادا، بیٹا اور پوتا تین مختلف نسلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جہانگیر خان یوسفزئی 1955 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے زندگی کی 70 بہاریں دیکھ رکھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دور میں عید بہت سادگی سے منائی جاتی تھی۔

’قبرستانوں کے قریب جھولے اور میلے لگتے، جہاں بچے جا کر جھولوں میں جھولتے اور خوشیاں مناتے۔‘

عید کے لیے نئے کپڑوں اور جوتوں وغیرہ کی خریداری لازمی سمجھی جاتی ہے۔

جہانگیر خان بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں چونکہ صرف سرکاری سکول تھے اور یونیفارم سیاہ رنگ کی شلوار قمیص ہوتی تھی، لہٰذا ’عید پر والدین ہمارے لیے سیاہ کپڑے خریدتے جو بطور سکول یونیفارم بھی استعمال ہوتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا عیدی دینے کا رواج نہیں تھا کیونکہ پیسے نہیں تھے تو عیدی کہاں سے دیتے، لیکن اس دور میں سادگی میں ہی خوشی تھی۔

’بلنہ (دعوت) ہوتی تھی جس میں ہم مختلف گھروں میں جا کر عید کی صبح پکے ہوئے کھانے سے کچھ نوالے لیتے تاکہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ ‘

80 کی دہائی سے 2000 تک کی عید

اس زمانے میں پرانی روایات بدلنے لگی تھیں۔ جہانگیر خان کے بیٹے ضیا اللہ یوسفزئی 1987 میں پیدا ہوئے اور وہ اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق اس زمانے میں ڈیجیٹل چیزیں عام نہیں تھیں اور عید پر ہم دوستوں کے ساتھ مختلف مقامات کا ٹرپ پلان کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا مختلف علاقوں میں میلے لگتے تھے جہاں مختلف کھانے کے سٹال، بچوں کے کھلونوں کے سٹال اور جھولے موجود ہوتے۔

’شاپنگ کی بات کی جائے تو غریب لوگ سکول کے یونیفارم کی طرح سیاہ کپڑے خرید لیتے جبکہ متوسط طبقے کے والدین اپنے اور بچوں کے لیے ایک ہی رنگ کے کپڑے خریدتے تھے۔

’عیدی کا رواج اس وقت شروع ہو چکا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم دور دور مختلف گھروں میں جا کر عیدی لیتے اور ہمیں ایک اور دو روپے کا نوٹ دیا جاتا تھا۔‘

مبارک باد دینے کی روایت کے حوالے سے ضیا اللہ نے بتایا کہ ’ہمارے زمانے میں عید کارڈ عام تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم اپنے دوستوں اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کو عید کارڈ بھیجتے تھے۔‘

’اب تو بات موبائل تک محدود ہو گئی ہے اور موبائل پیغامات اور ڈیجیٹل عید کارڈ کے ذریعے دوستوں اور رشتہ داروں کو مبارک باد دی جاتی ہے۔ ‘

جنریشن زی کی عید

ان دو نسلوں کے بعد جنریشن زی کی’ ڈیجیٹل‘ عید شروع ہو گئی اور زیادہ تر پرانی روایات تقریباً معدوم ہونے لگیں۔

ضیا اللہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے صبح عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور موبائل فون پر سارا دن نکال دیتے ہیں۔

اس جدید دور میں عید کی شاپنگ بھی تبدیل ہوگئی ہے۔ ضیا اللہ کے مطابق اب بچے اپنی مرضی سے آن لائن یا کسی برانڈ پر جا کر خود کپڑے اور جوتے پسند کرتے ہیں۔

ان کے 16 سالہ بیٹے دانیال کے مطابق اس عید پر انہوں نے تین جوڑے آن لائن پسند کر کے دکان جا کر خریدے۔

انہوں نے بتایا ’عید کے میلے ہم نے نہیں دیکھے اور عید کی صبح نماز کے بعد دوستوں سے مل کر پھر ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ